اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) اسرائیلی وزیرِ اعظم نے ایران کے ساتھ حالیہ جنگی کشیدگی اور فوجی کارروائیوں کے بعد
اپنی پہلی عوامی تقریر میں کہا ہے کہ اسرائیل اب پہلے سے زیادہ مضبوط ہو چکا ہے اور اس کی دفاعی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسرائیلی فوج نے حالیہ کارروائیوں کے دوران اپنے دشمنوں کے خلاف اہم فوجی اہداف حاصل کیے ہیں جس کے نتیجے میں ملک کی سیکیورٹی صورتحال پہلے سے بہتر ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے نہ صرف اپنے دفاعی نظام کو مضبوط کیا ہے بلکہ خطے میں دشمنوں کو روکنے کی صلاحیت، جسے دفاعی حکمت عملی میں ڈیٹرنس کہا جاتا ہے، کو بھی مزید مؤثر بنایا ہے۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ اسرائیل اپنے شہریوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دیتا ہے اور اس مقصد کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھاتا رہے گا۔ ان کے مطابق ملک کی فوجی طاقت اور دفاعی نظام اس وقت پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہیں نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے حالیہ بحران کے دوران ثابت کیا ہے کہ وہ کسی بھی خطرے کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل اور ایران کے درمیان حالیہ فوجی کشیدگی کے باعث پورے مشرقِ وسطیٰ میں صورتحال انتہائی حساس ہو چکی ہے اور عالمی برادری خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیلی وزیرِ اعظم کی یہ تقریر ایک جانب داخلی سطح پر عوام کو اعتماد دینے کی کوشش ہے جبکہ دوسری جانب خطے میں اپنے مخالفین کو واضح پیغام بھی دیا گیا ہے کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے معاملے پر کسی قسم کی کمزوری دکھانے کے لیے تیار نہیں۔