اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)آپریشن غضب للحق کے تحت پاک افواج کی جانب سے سرحدی علاقوں میں افغان طالبان اور فتنۃ الخوارج کے خلاف فیصلہ کن جوابی کارروائیاں بدستور جاری ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اس کارروائی کا مقصد سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کی کوششوں کا مؤثر سدباب کرنا اور ملکی سرحدوں کو محفوظ بنانا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاک فوج نے بھرپور اور منظم کارروائی کرتے ہوئے باجوڑ سیکٹر میں پاک افغان سرحد سے ملحقہ افغان طالبان کی متعدد پوسٹوں کو نشانہ بنایا۔ کارروائی کے دوران جدید ہتھیاروں اور گائیڈڈ میزائلوں کا استعمال کیا گیا جس کے نتیجے میں دشمن کی سرحدی چوکیوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان پوسٹوں کو سرحد پار سے دراندازی اور دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
عسکری حکام کے مطابق پاک فوج نے سرحدی نگرانی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں کیں۔ کارروائی کے دوران پاک افغان سرحد کے مختلف حساس مقامات پر دشمن کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا تاکہ مستقبل میں کسی بھی قسم کی دراندازی یا دہشت گردی کی کوشش کو روکا جا سکے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی میں گائیڈڈ میزائلوں کے ذریعے مخصوص اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں دشمن کے مورچے اور دفاعی تنصیبات بری طرح متاثر ہوئیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں انتہائی احتیاط اور درست معلومات کی بنیاد پر کی جا رہی ہیں تاکہ سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھا جا سکے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ آپریشن غضب للحق کا دائرہ صرف ایک علاقے تک محدود نہیں بلکہ مختلف سرحدی سیکٹرز میں بھی نگرانی اور کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سے قبل بھی بعض علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور سرنگوں کو نشانہ بنایا گیا تھا تاکہ دہشت گرد نیٹ ورک کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔
عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک افواج ملک کے دفاع اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کآپریشن غضب للحقر رہی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ آپریشن غضب للحق اپنے تمام اہداف کے حصول تک جاری رہے گا اور سرحدی علاقوں میں کسی بھی قسم کی دہشت گرد سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔