اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) متحدہ عرب امارات میں طاقتور موسمی نظام کے باعث گرج چمک، موسلا دھار بارش اور تیز آندھی نے معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر کر دیے ہیں، جبکہ حکام نے اچانک سیلاب کے خطرے کے پیش نظر ہنگامی انتباہ جاری کر دیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق ملک میں کم دباؤ کے ایک مضبوط نظام کے باعث غیر مستحکم موسم پیدا ہوا ہے، جس کے نتیجے میں مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے بارش، تیز ہوائیں اور گرج چمک کا سلسلہ جاری ہے۔ دبئی، ابوظہبی اور شمالی امارات میں رات بھر آسمان پر بجلی چمکتی رہی اور گرج دار آوازیں سنائی دیتی رہیں، جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔رپورٹس کے مطابق دبئی میں دنیا کی بلند ترین عمارت برج خلیفہ پر بجلی گرنے کے مناظر بھی دیکھے گئے، جبکہ متعدد شاہراہیں پانی میں ڈوب گئیں جس سے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو گیا۔ مشرقی علاقوں، خصوصاً فجیرہ میں سب سے زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی، جہاں کئی نشیبی مقامات پر پانی جمع ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
حکام کا کہنا ہے کہ بعض علاقوں میں ہوا کی رفتار ساٹھ کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ گئی، جس کے باعث درخت جڑوں سے اکھڑ گئے اور عمارتوں سے ملبہ اڑنے کے واقعات بھی پیش آئے۔ سمندر میں بھی طغیانی کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے، جس سے ماہی گیری اور دیگر بحری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ ابوظہبی پولیس نے احتیاطی تدابیر کے طور پر اہم شاہراہوں پر گاڑیوں کی رفتار کم کر کے ساٹھ کلومیٹر فی گھنٹہ مقرر کر دی ہے، جبکہ امدادی اداروں کو ہنگامی حالت میں رکھا گیا ہے۔ متعلقہ عملہ مختلف علاقوں میں پانی کے جمع ہونے اور نکاسی کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
مزید برآں نیشنل ایمرجنسی کرائسس اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلیں، سیلابی پانی، ندی نالوں اور کمزور درختوں سے دور رہیں اور خراب موسم کے دوران گاڑی چلانے سے گریز کریں۔حکام نے خبردار کیا ہے کہ خطرناک مقامات پر رش لگانا، سیلابی پانی میں داخل ہونا یا امدادی ٹیموں کے کام میں رکاوٹ ڈالنا قابل سزا جرم ہے، جس پر جرمانہ اور گاڑی ضبط کیے جانے کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق یہ خراب موسمی صورتحال جمعہ تک برقرار رہنے کا امکان ہے، جبکہ ہفتے سے موسم میں بتدریج بہتری آنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔