اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان نے دعویٰ کیا ہے کہ بشریٰ بی بی کو طبیعت ناساز ہونے پر اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، تاہم اس حوالے سے سرکاری سطح پر تفصیلات تاحال سامنے نہیں آ سکیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری اپنے بیان میں بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ گزشتہ رات انہیں اطلاع دی گئی کہ بشریٰ بی بی کو اسپتال منتقل کیا گیا، مگر ان کے علاج اور صحت کی موجودہ صورتحال کے بارے میں مزید معلومات کا انتظار ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ متعلقہ حکام فوری طور پر مکمل تفصیلات فراہم کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بشریٰ بی بی کی فیملی کو ان سے ملاقات کی اجازت دی جانی چاہیے، اور ساتھ ہی عمران خان سے بھی ان کے اہلِ خانہ کی ملاقات کو یقینی بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ علاج معالجے تک رسائی ہر شہری کا بنیادی اور قانونی حق ہے، جسے ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاونِ خصوصی شفیع جان نے بھی اس معاملے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ بشریٰ بی بی کی صحت سے متعلق خبریں انتہائی تشویشناک ہیں اور اس حوالے سے پنجاب حکومت کی خاموشی اور مبینہ غفلت قابل افسوس ہے۔
شفیع جان کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی ایک غیر سیاسی خاتون ہیں، اور ان کے ساتھ کسی بھی قسم کا نامناسب رویہ قابل قبول نہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ طرز عمل سیاسی انتقام پر مبنی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کو کمزور کرنے کی کوششیں پہلے بھی ناکام ہو چکی ہیں اور آئندہ بھی کامیاب نہیں ہوں گی۔ ان کے مطابق وفاقی اور صوبائی حکومتیں ایسے اقدامات کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکتیں۔
تاحال سرکاری حکام کی جانب سے بشریٰ بی بی کی صحت یا اسپتال منتقلی کے حوالے سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، جس کے باعث صورتحال مزید غیر واضح ہے اور عوامی سطح پر تشویش پائی جا رہی ہے۔