اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبے البرٹا کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ تیزی سے بڑھتی آبادی والے علاقوں میں طلبہ کیلئے جگہ کی کمی کو دور کرنے کیلئے بڑے پیمانے پر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
اس سلسلے میں دو سو ملین ڈالر کی نئی مالی معاونت سے ایک سو نواسی عارضی جماعتی کمرے تعمیر کیے جائیں گے، جس سے آئندہ برسوں میں تعلیمی سہولیات میں نمایاں بہتری متوقع ہے۔
یہ اعلان صوبائی وزیر برائے تعلیم و نگہداشتِ اطفال ڈیمیٹریوس نکولائڈیز کی جانب سے جمعہ کے روز کیا گیا۔ یہ اقدام تین سالہ جامع منصوبے کا حصہ ہے جس پر مجموعی طور پر چھ سو ملین ڈالر خرچ کیے جائیں گے، اور اس کا مقصد اسکولوں میں بڑھتے ہوئے ہجوم کے مسئلے کو حل کرنا ہے۔
حکام کے مطابق یہ نئے عارضی جماعتی کمرے تعلیمی سال 2026–27 تک مکمل ہو کر طلبہ کیلئے دستیاب ہوں گے۔ منصوبے کے تحت تقریباً دو تہائی جماعتی کمرے کیلگری اور ایڈمنٹن میں قائم کیے جائیں گے، جہاں طلبہ کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
وزیر تعلیم نے کہا کہ تمام فیصلے صوبے بھر کے واضح اصولوں کے تحت کیے جا رہے ہیں، جن میں طلبہ کی تعداد، عمارتوں کا استعمال اور طلبہ کی حفاظت شامل ہیں۔ منصوبے میں بارہ نئے غسل خانے، دس پرانے عارضی ڈھانچوں کی تبدیلی اور انتیس یونٹس کی منتقلی بھی شامل ہے۔
تفصیلات کے مطابق کیلگری تعلیمی بورڈ کو چھیالیس، کیلگری کیتھولک ادارے کو بارہ، ایڈمنٹن کیتھولک ادارے کو اکتیس اور ایڈمنٹن پبلک ادارے کو بتیس یونٹس فراہم کیے جائیں گے، جبکہ باقی اڑسٹھ یونٹس دیگر ترقی پذیر علاقوں میں تقسیم کیے جائیں گے۔
اس منصوبے کے نتیجے میں مجموعی طور پر تقریباً پانچ ہزار چار سو پچاس طلبہ کیلئے نئی جگہ پیدا ہوگی، جو موجودہ تعلیمی دباؤ کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔
کیلگری تعلیمی بورڈ کی چیئرپرسن لورا ہیک نے اس موقع پر کہا کہ یہ عارضی جماعتی کمرے مکمل طور پر عام کلاس رومز جیسے ہوتے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ کئی یونٹس اسکول کی عمارتوں سے براہِ راست منسلک ہوتے ہیں اور تمام سہولیات صوبائی معیار کے مطابق فراہم کی جاتی ہیں۔
حکومت کے مطابق ایسے عارضی جماعتی کمرے عموماً آٹھ سے بارہ ماہ کے اندر فعال ہو جاتے ہیں، تاہم اس کا انحصار مقام کی تیاری اور منصوبے کی پیچیدگی پر ہوتا ہے۔