اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)پاکستان ایک بار پھر عالمی سفارتی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا ہے، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا اگلا دور اسلام آباد میں ہوگا۔
سماجی رابطے کے ذریعے جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی نمائندے مذاکرات کے لیے پاکستان میں موجود ہوں گے، جبکہ سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی ان مذاکرات میں شامل ہوں گے۔ ان کے مطابق دونوں فریق ایک معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کو ایک منصفانہ اور قابلِ قبول پیشکش دی جا رہی ہے اور معاہدہ کسی نہ کسی صورت میں ضرور ہوگا، چاہے وہ دوستانہ طریقے سے ہو یا سخت انداز میں۔ انہوں نے کہا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو ایسے اقدامات کیے جائیں گے جو گزشتہ ستالیس برس میں کسی امریکی صدر نے نہیں کیے۔
انہوں نے مزید سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران نے معاہدہ قبول نہ کیا تو اس کے اہم توانائی مراکز اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق اب مزید نرمی نہیں دکھائی جائے گی اور ایران کی سرگرمیوں کو روکنا ضروری ہے۔
ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران نے کچھ یورپی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا ہے اور آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی معیشت متاثر ہو رہی ہے، جبکہ ایران کو خود بھی مالی نقصان ہو رہا ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق امریکی وفد دو مرحلوں میں پاکستان پہنچے گا جبکہ ایران کے مذاکراتی وفد کے بھی اسلام آباد آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اسی دوران ایران کے خبر رساں ادارے نے بھی تصدیق کی ہے کہ فریقین کے درمیان پیغامات کا تبادلہ پاکستان کی ثالثی میں ہوا ہے۔
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے متعلق اقدامات کو غیر قانونی قرار دیا جا رہا ہے اور یہ پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی پیش رفت کے خلاف ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان کئی دہائیوں بعد ابتدائی براہ راست رابطے بھی ہوئے تھے، جن میں دونوں ممالک کے اعلیٰ نمائندے شریک ہوئے تھے۔
مجموعی صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان ایک بار پھر ایک اہم سفارتی پل کا کردار ادا کر رہا ہے، جہاں خطے کی بڑی طاقتیں اپنے اختلافات کے حل کے لیے بیٹھنے کی تیاری کر رہی ہیں۔