البرٹا،اہم پارلیمانی کمیٹی کا پہلا اجلاس تنازع کا شکار ہو گیا

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبے البرٹا میں ایک اہم پارلیمانی کمیٹی کا پہلا اجلاس تنازع کا شکار ہو گیا، جہاں ایک سابق سیاست دان کی شہری درخواست پر غور کے عمل میں تاخیر کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ یہ درخواست اس بات کی توثیق کرتی ہے کہ البرٹا کو کینیڈا کا حصہ ہی رہنا چاہیے۔

یہ کمیٹی دسمبر میں قائم کی گئی تھی اور اس کی قیادت حکمران جماعت کے اراکین کر رہے ہیں۔ کمیٹی کا مقصد “فاریور کینیڈین” نامی درخواست پر غور کر کے اسمبلی کو سفارشات پیش کرنا ہے۔ یہ درخواست سابق نائب وزیرِاعلیٰ تھامس لوکاشوک کی جانب سے شروع کی گئی تھی، جس پر چار لاکھ چھپن ہزار سے زائد دستخط جمع ہوئے، جو ریفرنڈم کے آغاز کے لیے درکار تعداد سے کہیں زیادہ ہیں۔

یہ اقدام دراصل علیحدگی کی تحریکوں کے ردعمل میں سامنے آیا تھا، جبکہ “اسٹے فری البرٹا” نامی گروپ بھی صوبے کی علیحدگی کے لیے اپنی شہری درخواست پر کام کر رہا ہے، تاہم اسے حالیہ دنوں میں عدالتی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ رواں ماہ کے آغاز میں ایک جج نے اس درخواست کے نتائج کی تصدیق کو ایک ماہ کے لیے روک دیا تھا۔

کمیٹی کے سربراہ برانڈن لنٹی نے کہا ہے کہ وہ آئندہ کے لائحہ عمل پر بات چیت کے منتظر ہیں، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ کمیٹی کب تک اپنا کام مکمل کرے گی۔ کمیٹی کو اپنی سفارشات مقررہ مدت کے اندر اسمبلی میں پیش کرنا ہوں گی۔

ادھر حزبِ اختلاف کی جماعت نے حکومتی اراکین پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ وہ جان بوجھ کر عمل میں تاخیر کر رہے ہیں۔ اپوزیشن رکن راخی پنچولی نے نشاندہی کی کہ کمیٹی کے پاس کل نوّے دن ہیں، مگر پہلا اجلاس پینتالیس دن گزرنے کے بعد بلایا گیا، جس سے خدشہ ہے کہ رپورٹ وقت پر پیش نہیں ہو سکے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر کام مقررہ وقت تک مکمل نہ ہوا تو اسے نومبر دو ہزار چھبیس تک مؤخر کرنا پڑے گا، جو ممکنہ ریفرنڈم کے بعد کا وقت ہوگا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کمیٹی سات مئی تک اپنی رپورٹ پیش کرنے کا عہد کرے، تاہم ان کی یہ تجویز مسترد کر دی گئی۔

دوسری جانب حکومتی اراکین کا مؤقف ہے کہ جلد بازی کے بجائے درست طریقے سے کام مکمل کرنا زیادہ اہم ہے۔ مزید برآں، سابق نائب وزیرِاعلیٰ تھامس لوکاشوک کو کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کی اجازت دینے پر بھی اختلاف پایا گیا، جس پر فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔

لوکاشوک نے اس صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کمیٹی جمہوری عمل کو محدود کر رہی ہے اور ان کے بقول یہ ایک سیاسی چال ہے تاکہ علیحدگی کی حمایت کرنے والی درخواست کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔

اگرچہ وزیرِاعلیٰ ڈینیئل اسمتھ کی حکومت نے باضابطہ طور پر کینیڈا میں رہنے کی حمایت کی ہے، تاہم اس نے ریفرنڈم کے لیے دستخطوں کی حد کم کر کے ایسے اقدامات بھی کیے ہیں جن سے علیحدگی کی تحریکوں کو تقویت مل سکتی ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں