اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) وفاقی حکومت کی جانب سے وعدہ کیے جانے کے باوجود صاف توانائی کی جامع حکمت عملی ابھی تک جاری نہیں کی جا سکی جس پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق وزیر اعظم مارک کارنی نے چند ہفتے قبل اعلان کیا تھا کہ حکومت جلد ایک ایسا منصوبہ پیش کرے گی جس کا مقصد ہائیڈرو، جوہری اور قابلِ تجدید ذرائع کے ذریعے بجلی کے نظام کو مضبوط بنانا ہے۔ 26 مارچ کو ہیلی فیکس میں ایک پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ یہ منصوبہ "اگلے ہفتے” جاری کر دیا جائے گا، تاہم اب تک اس پر پیش رفت سامنے نہیں آئی۔حکومت کی حالیہ اقتصادی اپڈیٹ میں عندیہ دیا گیا ہے کہ ایک "ڈسکشن پیپر” جاری کیا جائے گا، جس کے ذریعے صوبوں اور علاقوں سے بجلی کے گرڈ کو جدید بنانے کے حوالے سے تجاویز طلب کی جائیں گی۔
اس کے علاوہ، حکومت نیوکلیئر توانائی سے متعلق ایک علیحدہ حکمت عملی بھی متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے، جو ممکنہ طور پر رواں سال کے آخر تک سامنے آ سکتی ہے۔جب اس تاخیر کے بارے میں سوال کیا گیا تو وزیر اعظم نے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا کہ حکمت عملی "جلد آرہی ہے”، تاہم وزیر اعظم کا دفتر کی جانب سے مزید کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ صاف توانائی کے منصوبے میں تاخیر نہ صرف ماحولیاتی اہداف کو متاثر کر سکتی ہے بلکہ توانائی کے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال بھی پیدا کر رہی ہے۔