اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) مارک کارنی کی قیادت میں لبرل حکومت نے اپنی پہلی بہار کی اقتصادی اپڈیٹ پیش کر دی، جس میں معیشت، روزگار، پنشن اور عوامی فلاح کے متعدد اہم اقدامات کا اعلان کیا گیا۔
اس موقع پر وزیر خزانہ فرانسوا فلپ شیمپین بھی موجود تھے۔حکومت کے مطابق وفاقی خسارہ توقع سے کم رہا ہے۔ نومبر میں خسارے کا تخمینہ 78.3 بلین ڈالر تھا، جو اب کم ہو کر 66.9 بلین ڈالر رہ گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تیل کی بلند قیمتوں سمیت دیگر عوامل کی وجہ سے تقریباً 60 بلین ڈالر کی اضافی آمدنی حاصل ہوئی، جبکہ نئے پروگراموں پر 37.5 بلین ڈالر خرچ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ حکومت آئندہ تین سالوں میں روزمرہ اخراجات کے خسارے کو ختم کرنے کا ہدف رکھتی ہے۔روزگار کے شعبے میں، ہنرمند پیشوں کو فروغ دینے کے لیے ایک بڑا پیکج متعارف کرایا گیا ہے۔ منصوبے کے تحت 2030-31 تک 80,000 سے 100,000 نئے ہنرمند کارکن تیار کیے جائیں گے، جس کے لیے پانچ سالوں میں 6 ارب ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔
اپرنٹس طلباء کو فی ہفتہ اضافی 400 ڈالر اور ریڈ سیل مکمل کرنے والوں کو 5,000 ڈالر بونس دیا جائے گا، جبکہ آجروں کے لیے بھی مراعات رکھی گئی ہیں۔پنشن کے حوالے سے، کینیڈا پنشن پلان میں تبدیلی کا اعلان کیا گیا ہے۔ شراکت کی شرح 9.9 فیصد سے کم کر کے 9.5 فیصد کرنے کی تجویز ہے، جس سے متوسط طبقے کو مالی ریلیف ملے گا۔ایئرلائن مسافروں کی شکایات کے حل کے لیے کینیڈا ٹرانسپورٹیشن ایجنسی کے بیک لاگ (تقریباً 95,000 کیسز) کو کم کرنے کے لیے تیسرے فریق کی خدمات حاصل کی جائیں گی تاکہ شکایات کا فوری ازالہ ممکن بنایا جا سکے۔
حکومت نے معذوری ٹیکس کریڈٹ کے لیے درخواست کے عمل کو بھی آسان بنانے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت 40 سے زائد طویل المدتی بیماریوں کے لیے کم کاغذی کارروائی درکار ہوگی اور مزید ماہرین کو تصدیق کا اختیار دیا جائے گا۔کھیلوں کے فروغ کے لیے آئندہ پانچ سالوں میں 755 ملین ڈالر کے فنڈ کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے بعد سالانہ 188 ملین ڈالر خرچ کیے جائیں گے، خاص طور پر نوجوانوں کو کھیلوں کی جانب راغب کرنے پر توجہ دی جائے گی۔مزید برآں، حکومت نے فراڈ کی روک تھام کے لیے کرپٹو اے ٹی ایم پر پابندی لگانے کا منصوبہ بھی ظاہر کیا ہے، کیونکہ 2024 میں ان کے ذریعے ہونے والی دھوکہ دہی سے تقریباً 14.2 ملین ڈالر کا نقصان رپورٹ ہوا تھا۔مجموعی طور پر، یہ اقتصادی اپڈیٹ حکومت کی ترجیحات کو واضح کرتی ہے، جن میں مالی استحکام، روزگار کے مواقع میں اضافہ اور عوامی فلاح کے اقدامات شامل ہیں۔