اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) کینیڈا کے صوبے البرٹا کو ملک سے الگ ہونے سے روکنے کے لیے ایک بڑی عوامی مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے، جس کی قیادت البرٹا کے سابق ڈپٹی پریمیئر تھامس لوکازوک کر رہے ہیں۔
"فوریور کینیڈین” کے نام سے شروع کی گئی اس مہم کے تحت سینکڑوں رضاکار "یونٹی بس” کے ذریعے پورے صوبے کا دورہ کریں گے اور عوام کو اکتوبر میں ہونے والے ریفرنڈم میں کینیڈا کے حق میں ووٹ دینے کی ترغیب دیں گے۔تھامس لوکازوک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مہم کے دوران گھر گھر جا کر کینیڈین پرچم والے بورڈز لگائے جائیں گے اور ووٹرز کو ریفرنڈم میں زیادہ سے زیادہ شرکت کی اہمیت سے آگاہ کیا جائے گا۔
اس ہفتے البرٹا کی پریمیئر ڈینیئل اسمتھ نے اپنے ٹیلی ویژن خطاب میں اعلان کیا تھا کہ ریفرنڈم میں عوام سے پوچھا جائے گا کہ آیا وہ کینیڈا کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا علیحدگی کے لیے پابند ریفرنڈم کے عمل کا آغاز کرنا چاہتے ہیں۔ڈینیئل اسمتھ نے واضح کیا کہ براہ راست علیحدگی کے حق میں ووٹنگ ممکن نہیں کیونکہ رواں ماہ ایک جج نے علیحدگی پسند گروپ کی ایسی درخواست مسترد کر دی تھی۔وفاقی حامی پٹیشن کے لیے دستخط جمع کرنے والے لوکازوک نے کہا کہ ان کی مہم کا مقصد واضح اکثریت حاصل کرنا ہے تاکہ دنیا کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ البرٹا کے عوام کینیڈا کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے کہا، "یہ یقینی طور پر صوبے کی تاریخ کا سب سے اہم ووٹ ہوگا، لیکن ایک بات واضح ہے کہ اس ملک کو کوئی نہیں توڑ سکتا۔”