اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا میں اپوزیشن جماعت کے سربراہ پیئر پوئیلیور پیر کے روز کیلگری میں ایک اہم خطاب کرنے جا رہے ہیں جس میں وہ اس مؤقف کا اظہار کریں گے کہ البرٹا میں علیحدگی پسند جذبات کا حل ملک سے الگ ہونا نہیں بلکہ وفاقی سطح پر پالیسیوں میں تبدیلی ہے۔
خطاب کے جاری کردہ حصے کے مطابق پیئر پوئیلیور کا کہنا ہے کہ علیحدگی کی حمایت کرنے والے افراد کو اپنے ہم وطن کینیڈین شہریوں سے کوئی مسئلہ نہیں، بلکہ ان کے تحفظات وفاقی حکومت کی پالیسیوں سے متعلق ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ البرٹا کو کسی نئے ملک کی ضرورت نہیں بلکہ اوٹاوا میں ایسی حکومتی پالیسیاں درکار ہیں جو صوبے کے مفادات کا بہتر تحفظ کر سکیں۔
اپوزیشن رہنما اپنے خطاب میں یہ مؤقف اختیار کریں گے کہ قدرتی وسائل کی ترقی میں رکاوٹیں دور کرنے، نئی پائپ لائنوں کی تعمیر، صوبائی خودمختاری کے احترام اور عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ کم کرنے جیسے اقدامات البرٹا کے عوام کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب البرٹا کی وزیرِاعلیٰ ڈینیئل اسمتھ پہلے ہی اعلان کر چکی ہیں کہ صوبائی حکومت اکتوبر میں عوام سے یہ سوال پوچھنے کا ارادہ رکھتی ہے کہ آیا البرٹا کینیڈا کا حصہ رہنا چاہتا ہے یا علیحدگی کے لیے قانونی عمل شروع کیا جائے۔
وزیرِاعظم مارک کارنی نے اس مجوزہ عوامی رائے شماری کو خطرناک حکمتِ عملی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی مہمات سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کر سکتی ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب صوبہ توانائی کے بڑے منصوبوں کے لیے سرمایہ کاری حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
پیئر پوئیلیور کا کہنا ہے کہ البرٹا کو دیگر صوبوں کے ساتھ مل کر وفاقی حکومت پر دباؤ بڑھانا چاہیے تاکہ ایسی پالیسیاں متعارف کروائی جا سکیں جو مشترکہ معاشی مفادات کو فروغ دیں۔ ان کے مطابق ترقیاتی منصوبوں میں رکاوٹ بننے والے قوانین کے خاتمے سے نہ صرف البرٹا بلکہ دیگر صوبوں کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی تجویز دی کہ البرٹا کو کیوبیک سمیت دیگر صوبوں کے ساتھ تعاون بڑھانا چاہیے تاکہ ہجرت اور دیگر اہم معاملات میں صوبائی اختیارات کو مضبوط بنایا جا سکے۔ ان کے مطابق متحدہ کینیڈا کے اندر رہتے ہوئے صوبائی مفادات کا تحفظ زیادہ مؤثر اور حقیقت پسندانہ راستہ ہے۔
ادھر علیحدگی کے حق میں رائے شماری کرانے کے لیے دائر کی گئی ایک درخواست کو عدالت نے مسترد کر دیا تھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ صوبائی حکومت نے مقامی باشندوں کی برادریوں سے ان کے معاہداتی حقوق پر ممکنہ اثرات کے بارے میں مناسب مشاورت نہیں کی۔ تاہم صوبائی حکومت اس فیصلے کے خلاف اپیل کر رہی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق آنے والے مہینوں میں البرٹا کی آئینی حیثیت، صوبائی خودمختاری اور وفاقی حکومت کے ساتھ تعلقات کینیڈا کی سیاست کے اہم ترین موضوعات میں شامل رہیں گے۔