ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں شدت، میزائل حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے، جہاں تازہ صورتحال میں دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے پر میزائل اور فضائی حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ایران نے لبنان کے دارالحکومت بیروت پر اسرائیلی حملوں کے ردعمل میں اسرائیل پر میزائل داغے ہیں۔ اس کے بعد اسرائیلی فوج نے بھی ایران پر جوابی بمباری شروع کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جس سے خطے میں صورتحال مزید بگڑ گئی ہے۔

اسرائیلی فوج کے مطابق ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کو روکنے کے لیے فضائی دفاعی نظام فعال کر دیا گیا ہے، جبکہ شمالی علاقوں خصوصاً حیفا میں سائرن بجا کر شہریوں کو الرٹ کر دیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ چند گھنٹوں کے دوران مزید حملوں کے خطرے کے پیش نظر ملک کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔

دوسری جانب عینی شاہدین اور بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل کے علاقے طبریہ کے قریب ایک میزائل اپنے ہدف پر لگا، تاہم اسرائیلی نشریاتی اداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ فضائی دفاعی نظام نے زیادہ تر یا تمام میزائلوں کو راستے میں ہی تباہ کر دیا۔

اس دوران سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایران کو چاہیے کہ وہ مزید حملے نہ کرے اور مذاکرات کی میز پر واپس آئے۔ ان کے مطابق امریکی فوج صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اسرائیلی قیادت سے رابطہ کر کے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کریں گے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے حملہ ایک سنگین غلطی تھی اور اسرائیلی افواج اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق فوجی اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے۔

ادھر لبنان میں سرگرم مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس نے شمالی اسرائیل میں فوجی ٹھکانوں اور اجتماع پر ڈرونز اور میزائلوں سے حملے کیے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

علاقائی صورتحال کے باعث ایران کے مغربی حصے میں فضائی حدود بند کر دی گئی ہیں، جبکہ عراق اور شام نے بھی اپنی فضائی حدود اور کچھ ہوائی اڈوں پر پروازیں عارضی طور پر معطل کر دی ہیں۔

تازہ پیش رفت کے بعد مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شدید جنگی ماحول کی طرف بڑھتا دکھائی دے رہا ہے، جبکہ عالمی برادری کی جانب سے فوری تحمل اور مذاکرات کی اپیلیں سامنے آ رہی ہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں