اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)لاہور ہائیکورٹ نے بجلی کے بلوں میں کیپسٹی چارجز، آئی پی پیز کو اضافی ادائیگیوں اور بجلی کے ٹیرف کے خلاف دائر درخواست کو ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
عدالت نے جسٹس احمد ندیم ارشد کے تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ توانائی کے شعبے میں پالیسی سازی حکومت اور پارلیمنٹ کا اختیار ہے، عدلیہ اس عمل میں مداخلت نہیں کر سکتی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ عدالت اقتصادی، مالیاتی اور ریگولیٹری پالیسیوں کے معاملات میں اپیلٹ فورم کے طور پر کردار ادا نہیں کر سکتی، اور محض کسی پالیسی سے اختلاف آئینی درخواست دائر کرنے کی بنیاد نہیں بن سکتا۔
عدالت نے واضح کیا کہ وہ ریگولیٹر، آڈیٹر یا ماہرِ معاشیات کا کردار ادا نہیں کر سکتی، جبکہ کیپسٹی چارجز اور ٹیرف سے متعلق امور پالیسی ساز اداروں کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔
فیصلے کے مطابق درخواست گزار یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ کسی بنیادی آئینی حق کی خلاف ورزی ہوئی ہے، اور آئینی مداخلت صرف اس وقت ممکن ہے جب کوئی اقدام غیر قانونی یا غیر آئینی ہو۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ آئی پی پیز کو کی گئی ادائیگیوں کی واپسی کا حکم دینا عدالتی دائرہ اختیار میں شامل نہیں، اور مفادِ عامہ کے نام پر عدالت سے پالیسی سازی نہیں کروائی جا سکتی۔
درخواست گزار نے بجلی کے شعبے میں کیپسٹی چارجز اور ٹیرف کے نظام کو چیلنج کرتے ہوئے اس کا ازسرِنو جائزہ لینے کی استدعا کی تھی، تاہم عدالت نے درخواست کو مسترد کر دیا۔