مونٹریال کے غذائی امدادی مرکز نے 13 برس بعد راشن ٹوکری کی قیمت بڑھا دی

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے شہر مونٹریال کے ایک غذائی امدادی مرکز نے تیرہ برس کے بعد پہلی مرتبہ اپنی راشن ٹوکری کی قیمت میں اضافہ کر دیا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ خوراک کی فراہمی میں نمایاں کمی اور بڑھتے ہوئے اخراجات نے انہیں یہ مشکل فیصلہ کرنے پر مجبور کیا۔

ادارے نے حال ہی میں راشن ٹوکری کی قیمت تین ڈالر سے بڑھا کر پانچ ڈالر کر دی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ان کے اہم سپلائی فراہم کرنے والوں میں سے ایک کی جانب سے خوراک کی ترسیل کم ہو گئی ہے، جس کے باعث انہیں اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے خود خوراک خریدنا پڑ رہی ہے۔

خوراک کی فراہمی میں کمی

ادارے کی جنرل منتظم کیٹلین میک ڈونل نے بتایا کہ پہلے راشن ٹوکریوں میں پھل، سبزیاں، چاول، پاستا اور دیگر بنیادی غذائی اشیا وافر مقدار میں شامل ہوتی تھیں، لیکن اب دستیاب اشیا کی تعداد پہلے کے مقابلے میں کم ہو گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ادارہ اپنی استطاعت کے مطابق راشن میں زیادہ سے زیادہ اشیا شامل کرنے کی کوشش کرتا ہے، تاہم مستحق افراد نے واضح طور پر محسوس کیا ہے کہ اب انہیں پہلے کے مقابلے میں کم خوراک مل رہی ہے۔

خوراک کی کمی پوری کرنے کے لیے ادارے نے خود خوراک خریدنا شروع کر دی ہے، جس سے سالانہ اخراجات میں ہزاروں ڈالر کا اضافہ ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ دو ہزار بارہ کے بعد پہلی مرتبہ راشن ٹوکری کی قیمت بڑھانا ناگزیر ہو گیا۔

قیمت میں اضافے کے اثرات

قیمت میں اضافے کے فوری اثرات بھی سامنے آئے ہیں۔ ادارے کے مطابق جنوری میں نئی قیمت نافذ ہونے کے بعد راشن حاصل کرنے والوں کی تعداد میں تقریباً تیس فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

انتظامیہ کو تشویش ہے کہ وہ افراد جو پہلے باقاعدگی سے امدادی خوراک حاصل کرتے تھے، اب شاید مالی مشکلات کے باعث آنے سے قاصر ہیں اور ممکن ہے کہ انہیں غذائی قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہو۔

کیٹلین میک ڈونل نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قیمت میں اضافے کے فوراً بعد مستحق افراد کی تعداد کم ہونا شروع ہو گئی اور بہت سے لوگ دوبارہ واپس نہیں آئے۔ ان کے بقول ایسے کئی افراد جو تقریباً ہر ہفتے امدادی خوراک لینے آتے تھے، اب نظر نہیں آ رہے، جو ایک تشویشناک صورتحال ہے۔

بڑھتی مہنگائی اور فلاحی اداروں پر دباؤ

یہ صورتحال اس بات کی عکاس ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور خوراک کی بلند قیمتیں نہ صرف کم آمدنی والے خاندانوں کو متاثر کر رہی ہیں بلکہ فلاحی اور امدادی ادارے بھی شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ خوراک کے عطیات میں کمی اور اخراجات میں اضافے کے باعث کئی اداروں کو اپنی خدمات برقرار رکھنے کے لیے مشکل فیصلے کرنا پڑ رہے ہیں، جس کا براہِ راست اثر ضرورت مند افراد پر پڑ رہا ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں