اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)اونٹاریو میں ہونے والے ایک تازہ عوامی سروے کے مطابق صوبے کے پریمیئر ڈگ فورڈ کی مقبولیت ۲۰۱۸ کے بعد اپنی سب سے کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، جس نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
انگیس ریڈ انسٹیٹیوٹ کے مطابق حالیہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ فورڈ کی حمایت میں گزشتہ تین ماہ کے دوران تقریباً دس فیصد پوائنٹس کی کمی آئی ہے، جو ماہرین کے مطابق ایک نمایاں اور غیر معمولی گراوٹ ہے۔ ادارے کی صدر شاشی کرل نے کہا کہ فورڈ کی مقبولیت میں اتار چڑھاؤ کی ایک طویل تاریخ رہی ہے، یعنی جب وہ اوپر ہوتے ہیں تو بہت اوپر اور جب نیچے آتے ہیں تو کافی نیچے چلے جاتے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق ۲۰۱۸ میں ان کی حمایت ۴۲ فیصد تھی، جو کووڈ-۱۹ وبا کے دوران مئی ۲۰۲۰ میں بڑھ کر ۶۹ فیصد تک پہنچ گئی۔ تاہم حالیہ سروے میں یہ شرح صرف ۲۱ فیصد رہ گئی ہے، جو ان کے اقتدار کے آغاز کے بعد سب سے کم سطح ہے۔
مزید تفصیلات کے مطابق ۲۰۲۵ کے صوبائی انتخابات کے بعد تقریباً ۴۸ فیصد ووٹرز نے ان کی کارکردگی کی حمایت ظاہر کی تھی، مگر حالیہ سروے میں صورتحال مکمل طور پر بدل گئی ہے۔ موجودہ اعداد و شمار میں ۲۱ فیصد حمایت میں وہ افراد بھی شامل ہیں جو مضبوط یا جزوی طور پر حمایت کرتے ہیں، جبکہ ۴۵ فیصد افراد نے ان کی کارکردگی پر سخت ناپسندیدگی ظاہر کی ہے، جو سب سے بڑا گروپ ہے۔
سروے کے مطابق عوامی ناراضی کی وجوہات میں مہنگائی، معاشی دباؤ، اور حکومتی فیصلوں پر تنقید شامل ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومتی سطح پر سامنے آنے والے تنازعات اور بعض متنازع فیصلوں نے بھی عوامی اعتماد کو متاثر کیا ہے۔ شاشی کرل کے مطابق معاشی مشکلات اور سیاسی تنازعات دونوں نے اس کمی میں کردار ادا کیا ہے۔
اپوزیشن رہنماوں نے بھی اس صورتحال پر تنقید کی ہے۔ اونٹاریو کی این ڈی پی کی رکن اسمبلی کرسٹن وونگ ٹام نے کہا کہ حکومت مسلسل مسائل کا سامنا کر رہی ہے اور عوام اب ان وضاحتوں کو قبول نہیں کر رہے جن کے تحت حکومت اپنی ناکامیوں کی ذمہ داری قبول کرنے سے گریز کرتی ہے۔
دوسری جانب حکومتی وزیر اسٹین چو نے وزیرِاعلیٰ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات کے دن کا پول ہی اصل فیصلہ کن ہوتا ہے اور عوامی رائے وقت کے ساتھ بدل سکتی ہے۔
ڈگ فورڈ ماضی میں بھی عوامی رائے کے اتار چڑھاؤ کا سامنا کرتے رہے ہیں اور بعض اوقات کم مقبولیت کے باوجود دوبارہ حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ سیاسی موسم میں اپوزیشن کی ممکنہ مضبوطی کے باعث حکومت پر دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے، جس سے صوبائی سیاست میں نئی کشیدگی پیدا ہونے کا امکان ہے۔