اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا پوسٹ نے ملک کے دارالحکومت اوٹاوا میں مزید ہزاروں پتوں پر ڈور ٹو ڈور میل ڈیلیوری ختم کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت شہریوں کو بتدریج کمیونٹی میل باکس سروس کی طرف منتقل کیا جائے گا۔
جمعرات کو جاری بیان کے مطابق تقریباً دس ہزار آٹھ سو اٹھارہ پتے اوٹاوا میں اس تبدیلی سے متاثر ہوں گے، جبکہ اپریل میں پہلے ہی تیس ہزار سے زائد پتوں کو اس منصوبے میں شامل کیا جا چکا ہے۔ مجموعی طور پر 2027 تک کئی شہروں بشمول ایجکس، برامپٹن، ہاکسبری، لندن، مسی ساگا، کچنر، پِکَرنگ اور اوٹاوا کے رہائشی اس نئی نظام کے تحت آجائیں گے۔
کینیڈا پوسٹ کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد سروس کو “جدید” بنانا، سیکیورٹی بہتر کرنا اور اخراجات کم کرنا ہے۔ ادارے کے مطابق کمیونٹی میل باکس میں تمام خطوط اور پارسل تالے میں محفوظ رہتے ہیں، جس سے چوری کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔
ادارے نے مزید بتایا کہ کسی بھی پتے کو ڈور ٹو ڈور سے کمیونٹی میل باکس میں منتقل کرنے کا عمل کئی ماہ پر مشتمل ہوتا ہے، اور اس دوران متعلقہ علاقوں میں مناسب مقامات کا انتخاب کیا جاتا ہے۔
کینیڈا پوسٹ کے مطابق یہ تبدیلی اس کے اس بنیادی مقصد کی حمایت کرتی ہے کہ وہ پورے ملک میں میل کی ترسیل جاری رکھ سکے اور ساتھ ہی ٹیکس دہندگان پر بوجھ بھی کم ہو۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پوسٹل یونین کے ساتھ طویل مذاکرات اور ہڑتالوں کا سلسلہ بھی جاری ہے، جس میں ہزاروں ملازمین شامل ہیں اور تعطیلات کے اہم سیزن پر اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔
گزشتہ سال وفاقی حکومت نے بھی کینیڈا پوسٹ کے مالی دباؤ کو کم کرنے کے لیے ایک ارب ڈالر کی مدد کے بعد ادارے کے ماڈل میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان کیا تھا، جن میں ڈیلیوری کے معیارات میں ردوبدل، کمیونٹی میل باکس کی توسیع اور دیہی ڈاک خانوں کی بندش پر پابندی ختم کرنا شامل تھا۔