اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)وفاقی بجٹ برائے 2026-27 میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ٹیکس محصولات میں نمایاں اضافہ کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر نئے اقدامات تجویز کیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کے لیے مجموعی ٹیکس ہدف 15 ہزار 264 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، جبکہ بجٹ میں تقریباً 650 ارب روپے کے اضافی ٹیکس اقدامات شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ ان میں سے تقریباً 150 ارب روپے کے نئے ٹیکس اقدامات براہِ راست مختلف شعبوں پر اثر انداز ہوں گے۔
مجوزہ اقدامات کے تحت ریٹیل پیکنگ میں فروخت ہونے والی متعدد اشیاء پر سیلز ٹیکس عائد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ ان اشیاء میں بنیادی ضرورت کی مصنوعات بھی شامل ہیں، جن میں دودھ، بچوں کا فارمولا دودھ اور دودھ سے تیار کردہ دیگر مصنوعات نمایاں ہیں۔
ذرائع کے مطابق ان اقدامات کا مقصد ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اور ریونیو میں اضافہ کرنا ہے، تاہم ممکنہ طور پر یہ تبدیلیاں عام صارفین پر مہنگائی کے دباؤ میں اضافہ کر سکتی ہیں۔
حکومتی سطح پر ان تجاویز پر غور جاری ہے اور حتمی فیصلہ بجٹ پیشی کے وقت کیا جائے گا، جس کے بعد یہ واضح ہوگا کہ کن اشیاء پر ٹیکس نافذ ہوگا اور کس حد تک استثنیٰ دیا جائے گا۔