ایران اور امریکہ کے بالواسطہ مذاکرات میں مثبت پیش رفت،خامنہ ای کی تدفین کے بعد بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)قطر اور پاکستان کی مشترکہ ثالثی میں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری بالواسطہ مذاکرات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ اور قطری حکام کے مطابق امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں نے دوحہ میں قطری اور پاکستانی ثالثوں سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جن میں مختلف امور پر مثبت پیش رفت ہوئی اور آئندہ بھی مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق یہ پیش رفت اسلام آباد مفاہمتی یادداشت سے متعلق امور پر ہوئی، جبکہ اس کی بنیاد گزشتہ ماہ سوئٹزرلینڈ کے شہر لوسرن میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں طے پانے والی بات چیت پر رکھی گئی تھی۔

دفتر خارجہ نے بتایا کہ دونوں فریقوں نے آئندہ بھی مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ اگلی ملاقات ایران کے سابق سپریم لیڈر کی تدفین کی تقریبات کے فوراً بعد جلد از جلد منعقد کی جائے گی۔

قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے بھی تصدیق کی کہ آئندہ مذاکرات ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے بعد جلد منعقد کیے جائیں گے۔ آخری رسومات ہفتے کے روز تہران میں شروع ہونے والی ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر قطر میں موجود تھے، جہاں انہوں نے ایرانی اعلیٰ مذاکرات کار کاظم غریب آبادی کے معاملے پر ثالثوں کے ذریعے جنگ کے مستقل خاتمے سے متعلق بات چیت کی۔

قطری حکومت کے مطابق امریکی وفد نے قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی سے بھی ملاقات کی۔ ان ملاقاتوں کا مقصد ایسے نکات کو حتمی شکل دینا تھا تاکہ اعلیٰ قیادت کے درمیان ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار کی جا سکے۔

ادھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری آمدورفت سمیت مختلف معاملات زیر بحث آئے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ جوہری معاملے پر بھی سنجیدہ ہے اور اس حوالے سے بات چیت کا آغاز کیا جائے گا۔

دوسری جانب قطری وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے ایرانی مذاکرات کار کاظم غریب آبادی اور دیگر ایرانی حکام سے بھی ملاقات کی، جس میں پاکستانی ثالث بھی شریک تھے۔

تاہم ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایرانی وفد کی امریکی نمائندوں سے کوئی براہ راست ملاقات نہیں ہوئی۔ نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ ثالثوں کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں لبنان اور ایران کے بعض منجمد اثاثوں کی واپسی کے منصوبے زیر غور آئے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کے اختتام پر شرکا نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کی نگرانی اور کسی بھی خلاف ورزی کی اطلاع دینے اور اسے ریکارڈ کرنے کے لیے فوری طور پر ایک مواصلاتی چینل قائم کیا جائے گا۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی قطر میں جاری بالواسطہ مذاکرات میں پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں سے پاک رکھنے کے حوالے سے عمل مثبت انداز میں آگے بڑھ رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان یہ بالواسطہ مذاکرات اس بات کا اشارہ ہیں کہ حالیہ کشیدگی اور جھڑپوں کے باوجود سفارتی رابطے برقرار ہیں اور مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

یاد رہے کہ قطر اور پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت، جسے گزشتہ ماہ سوئٹزرلینڈ کے شہر لوسرن میں حتمی شکل دی گئی تھی، میں 60 روزہ جنگ بندی، آبنائے ہرمز کی بحالی اور جنگ کے خاتمے کے ساتھ ایران کے جوہری پروگرام پر حتمی معاہدے کے لیے ایک واضح ٹائم ٹیبل شامل ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں