اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگلاتی آگ کے دھوئیں پر کینیڈا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جنگلات کے مؤثر انتظام میں بہتری نہ آئی تو کینیڈا پر مزید محصولات عائد کیے جا سکتے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں الزام لگایا کہ کینیڈا اپنے جنگلات اور جھاڑیوں کی مناسب دیکھ بھال نہیں کر رہا، جس کے باعث اونٹاریو سمیت کینیڈا سے اٹھنے والا دھواں امریکا کی شمالی ریاستوں تک پہنچ رہا ہے اور وہاں کی فضا کو آلودہ کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے پر وزیراعظم مارک کارنی سے بات کریں گے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ کینیڈا اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے کیا اقدامات کر رہا ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جنگلات کے ناقص انتظام کے باعث ہر سال یہی صورتحال پیدا ہوتی ہے، جس سے امریکا کو اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس آلودگی کی قیمت بھی کینیڈا پر عائد موجودہ محصولات میں شامل کی جانی چاہیے۔
دوسری جانب وزیراعظم مارک کارنی نے امریکی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنا تمام ممالک، بشمول امریکا، کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
اونٹاریو کے شہر لندن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارک کارنی نے کہا کہ کینیڈا صاف توانائی میں سرمایہ کاری کر رہا ہے، جبکہ امریکا صاف توانائی کے اقدامات کی مخالفت کر رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ واضح نہیں کہ صدر ٹرمپ کینیڈا پر نئے محصولات عائد کرنے کے لیے کون سا قانونی اختیار استعمال کر سکتے ہیں، کیونکہ اس سال کے آغاز میں امریکی سپریم کورٹ ٹرمپ کے بعض ہنگامی اختیارات کے استعمال کو محدود کر چکی ہے۔
اس وقت کینیڈا پر عائد 10 فیصد امریکی محصولات 1974 کے تجارتی قانون کی ایک شق کے تحت نافذ ہیں، جو جولائی کے آخر میں ختم ہو جائیں گے، جب تک کہ امریکی کانگریس ان میں توسیع کی منظوری نہ دے۔
ٹرمپ کے بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی ریپبلکن جماعت کے چار ارکانِ کانگریس بھی جنگلاتی آگ سے اٹھنے والے دھوئیں پر کینیڈا کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
ریپبلکن رکن کانگریس جان جیمز نے کینیڈا کو "آخری وارننگ” دیتے ہوئے کہا کہ جنگلات کا بہتر انتظام کیا جائے تاکہ ہر سال امریکی شہریوں کو دھوئیں سے متاثر نہ ہونا پڑے۔
اسی طرح اوہائیو سے ریپبلکن سینیٹر برنی مورینو نے اعلان کیا کہ وہ آئندہ ہفتے ایک بل پیش کریں گے، جس میں جنگلاتی آگ کے دھوئیں پر کینیڈا کے ذمہ دار حکام پر پابندیاں عائد کرنے، ان کے ویزے منسوخ کرنے، اثاثے منجمد کرنے اور متاثرہ امریکیوں کے لیے اضافی محصولات سے معاوضہ فنڈ قائم کرنے کی تجاویز شامل ہوں گی۔
ادھر اونٹاریو کے پریمیئر ڈگ فورڈ نے امریکی سیاست دانوں کی تنقید پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ شکایت کرنے کے بجائے امریکا کو امداد اور فائر فائٹنگ ٹیمیں بھیجنی چاہییں، کیونکہ کینیڈا نے ماضی میں امریکی جنگلاتی آگ پر قابو پانے کے لیے بھی مدد فراہم کی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت اونٹاریو بھر میں تقریباً 200 جنگلاتی آگ بھڑک رہی ہیں، جن میں سے تقریباً نصف آگ پر تاحال قابو نہیں پایا جا سکا۔