اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکی خبر رساں ویب سائٹ ایگزیوس کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف وسیع فوجی کارروائی کے مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں، تاہم اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا نے اسرائیل کی جانب فضائی ایندھن فراہم کرنے والے متعدد طیارے روانہ کیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق زیر غور ممکنہ منصوبوں میں ایران کے بجلی کے نظام، اہم بنیادی ڈھانچے اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے امکانات بھی شامل ہیں۔
ایگزیوس کے مطابق واشنگٹن کا مقصد ایران پر دباؤ بڑھانا ہے تاکہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال ہو اور تہران کو اپنے جوہری پروگرام سے متعلق امریکی مطالبات پر آمادہ کیا جا سکے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آئندہ چند روز میں مزید امریکی ایندھن بردار طیارے اسرائیل پہنچ سکتے ہیں، جبکہ خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے الزام عائد کیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں زیادہ تر شہری جہازوں کو نشانہ بنایا ہے اور ایسے پڑوسی ممالک پر بھی حملے کیے ہیں جو اس تنازع کا حصہ نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے امریکی سینٹرل کمانڈ کو ہدایت دی ہے کہ ایران کی حملہ کرنے کی صلاحیت محدود کرنے اور اس کے اقدامات کا جواب دینے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔
ادھر ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ وہ تمام ممالک جو اپنی سرزمین پر امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی کر رہے ہیں، ممکنہ ردعمل کے لیے تیار رہیں۔
پاسدارانِ انقلاب کے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوجی اڈوں کی موجودگی والی سرزمین ایران کے خلاف استعمال ہو رہی ہے، اس لیے متعلقہ ممالک شہری دفاع کے انتظامات فعال کریں اور شہریوں کو ممکنہ فوجی اہداف سے دور رکھیں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ خطے میں امن کی بحالی تک ایران اپنا ردعمل جاری رکھے گا۔