اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)حکومت نے ایک بار پھر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد عوام کے لیے سفری اخراجات میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لٹر مقرر کر دی گئی ہے۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 378 روپے 66 پیسے فی لٹر ہو گئی ہے۔نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے سے شروع ہو گیا ہے اور یہ اگلے 15 روز کے لیے نافذ رہیں گی۔
قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، عالمی سیاسی کشیدگی اور روپے کی قدر میں تبدیلیاں ہوتی ہیں۔
پاکستان اپنی ضرورت کا بڑا حصہ پٹرولیم مصنوعات کی درآمد کے ذریعے پورا کرتا ہے، اس لیے عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا ہونے کا براہ راست اثر پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔
حالیہ عرصے میں عالمی سطح پر مختلف خطوں میں کشیدگی، خاص طور پر مشرق وسطیٰ کے حالات، تیل کی سپلائی کے حوالے سے خدشات پیدا کر رہے ہیں۔ جب عالمی مارکیٹ میں سپلائی متاثر ہونے کا خطرہ بڑھتا ہے تو خام تیل کی قیمتیں اوپر چلی جاتی ہیں۔
ڈالر اور درآمدی لاگت کا اثر
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک اہم عنصر ڈالر کی قیمت بھی ہے۔ چونکہ پاکستان عالمی مارکیٹ سے تیل ڈالر میں خریدتا ہے، اس لیے اگر روپے کے مقابلے میں ڈالر مہنگا ہو جائے تو درآمدی لاگت بڑھ جاتی ہے۔تیل خریدنے، اسے پاکستان تک پہنچانے، انشورنس، فریٹ چارجز اور دیگر اخراجات بھی مجموعی قیمت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ جائیں یا روپے پر دباؤ آئے تو حکومت کے لیے مقامی سطح پر قیمتیں کم رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔
ٹیکس اور دیگر عوامل
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حکومت کی جانب سے عائد ٹیکسز بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔پٹرول اور ڈیزل کی قیمت کا تعین صرف خام تیل کی قیمت سے نہیں ہوتا بلکہ اس میں مختلف حکومتی محصولات، درآمدی اخراجات اور دیگر عوامل شامل ہوتے ہیں۔حکومت ہر 15 دن بعد عالمی قیمتوں، ڈالر کی شرح اور دیگر عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے نئی قیمتوں کا اعلان کرتی ہے۔
عوام پر اثرات
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ صرف گاڑی چلانے والوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات پوری معیشت پر پڑتے ہیں۔ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے سے اشیائے ضروریہ کی ترسیل مہنگی ہو سکتی ہے، جس کا اثر سبزیوں، پھلوں، خوراک اور دیگر روزمرہ استعمال کی چیزوں کی قیمتوں پر بھی آ سکتا ہے۔خاص طور پر متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے پٹرول کی قیمتوں میں معمولی اضافہ بھی ماہانہ بجٹ پر دباؤ بڑھا دیتا ہے۔
مسلسل اضافوں کا سلسلہ
حالیہ عرصے میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ گزشتہ روز بھی حکومت کی جانب سے پٹرول کی قیمت میں 6 روپے 39 پیسے فی لٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 83 پیسے فی لٹر اضافے کا اعلان کیا گیا تھا۔حالیہ اضافوں کے بعد شہریوں کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے سفری اخراجات نے پہلے ہی مشکلات میں اضافہ کر رکھا ہے۔
مستقبل کی صورتحال
ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں مزید بڑھتی ہیں یا عالمی حالات میں بہتری نہیں آتی تو پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔
تاہم اگر عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی آتی ہے اور روپے کی قدر بہتر ہوتی ہے تو آئندہ قیمتوں میں کمی کا امکان بھی پیدا ہو سکتا ہے۔
فی الحال حکومت کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین عالمی مارکیٹ کے رجحانات اور دیگر معاشی عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے، جبکہ عوام کو امید ہے کہ عالمی حالات میں بہتری کے ساتھ انہیں ریلیف بھی مل سکے گا۔