اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق وزیراعظم اور پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان نے اڈیالہ جیل میں ہونے والی آخری ملاقات کے دوران انہیں بتایا تھا کہ پارٹی کے بعض لوگ ان کی ہدایات پر عمل نہیں کر رہے۔
اقبال آفریدی کا یہ بیان پی ٹی آئی رہنما فیصل جاوید کی جانب سے سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں سامنے آیا ہے، جس میں وہ عمران خان سے ملاقات کے حوالے سے گفتگو کر رہے ہیں۔
اقبال آفریدی نے دعویٰ کیا کہ ملاقات کے دوران عمران خان نے ان سے کہا تھا کہ "اقبال، پارٹی میری بات نہیں مان رہی ہے”، اور انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ یہ بات قرآن پر ہاتھ رکھ کر کہہ سکتے ہیں۔
عمران خان سے گفتگو کا دعویٰ
پی ٹی آئی رہنما کے مطابق انہوں نے عمران خان سے ملاقات کے دوران پارٹی معاملات پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔اقبال آفریدی نے بتایا کہ انہوں نے عمران خان سے کہا کہ اگر کوئی شخص پارٹی قیادت یا بانی چیئرمین کی ہدایات کے خلاف جا رہا ہے تو یہ درست عمل نہیں۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے عمران خان سے اپنی وفاداری کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جو شخص عمران خان کا ساتھ چھوڑے گا وہ قابل قبول نہیں ہوگا۔
دوبارہ ملاقات نہ ہونے کا دعویٰ
اقبال آفریدی کا کہنا تھا کہ اس ملاقات کے بعد ان کی عمران خان سے دوبارہ ملاقات نہیں ہو سکی۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ مسلسل ملاقات کے لیے درخواستیں دے رہے ہیں اور اگر انہیں دوبارہ ملاقات کا موقع ملا اور عمران خان نے کسی ایسے شخص کا نام لیا جو ان کی ہدایات پر عمل نہیں کر رہا تو وہ اس کے خلاف سخت موقف اختیار کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں :پی ٹی آئی کی صوبائی چیف آرگنائزر عالیہ حمزہ لاہور سے گرفتار،نامعلوم مقام منتقل
پی ٹی آئی رہنما نے اپنے بیان میں انتہائی سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے شخص کو نہیں چھوڑیں گے۔
پارٹی معاملات پر سوالات
اقبال آفریدی کے بیان کے بعد تحریک انصاف کے اندرونی معاملات ایک بار پھر زیر بحث آ گئے ہیں۔گزشتہ کچھ عرصے سے پی ٹی آئی کو تنظیمی امور، سیاسی حکمت عملی اور قیادت کے درمیان رابطوں کے حوالے سے مختلف مشکلات کا سامنا رہا ہے۔
پارٹی کے متعدد رہنما مختلف مواقع پر فیصلوں کے طریقہ کار اور رابطوں کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں، تاہم پارٹی قیادت کی جانب سے اکثر اتحاد برقرار رکھنے اور اختلافات کو اندرونی طور پر حل کرنے پر زور دیا جاتا رہا ہے۔
بیان کی تصدیق نہیں ہوئی
اقبال آفریدی کا یہ دعویٰ ان کے ذاتی بیان پر مبنی ہے۔ عمران خان یا پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت کی جانب سے اس ملاقات میں ہونے والی گفتگو یا ان دعوؤں کی فوری طور پر کوئی تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق جیل میں موجود سیاسی قیادت کے ساتھ رابطوں اور پارٹی فیصلوں سے متعلق بیانات اکثر سیاسی بحث کا حصہ بنتے رہے ہیں۔
سیاسی اثرات
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اقبال آفریدی کے دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ پی ٹی آئی کے اندر فیصلہ سازی کے نظام اور قیادت کے درمیان رابطوں کے حوالے سے اہم سوالات اٹھا سکتے ہیں۔
تاہم سیاسی جماعتوں میں اندرونی اختلافات ایک معمول کا حصہ ہوتے ہیں اور ان کی اصل نوعیت کا اندازہ پارٹی رہنماؤں کے باضابطہ ردعمل کے بعد ہی لگایا جا سکتا ہے۔
اقبال آفریدی کے بیان نے ایک بار پھر پی ٹی آئی کے اندرونی معاملات، عمران خان کے پارٹی رہنماؤں پر اثر و رسوخ اور مستقبل کی سیاسی حکمت عملی سے متعلق بحث کو تیز کر دیا ہے۔