خلا میں پہلی بار شکر کی دریافت، سائنس دانوں کا بڑا دعویٰ

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ہسپانوی سائنس دانوں نے خلا میں پہلی بار شکر (شوگر) کی ایک قسم دریافت کر لی ہے جسے ماہرین زندگی کی ابتدا کے راز سمجھنے کی جانب ایک اہم سائنسی پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔

محقیقین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت اس سوال کا جواب تلاش کرنے میں مدد دے سکتی ہے کہ زمین پر زندگی کے بنیادی اجزا آخر کہاں سے آئے۔

تحقیقی ٹیم نے ملکی وے کہکشاں کے مرکز کے قریب زمین سے تقریباً 26 ہزار نوری سال دور ایک سالماتی بادل (مالیکیولر کلاؤڈ) میں چار کاربن پر مشتمل شکر ایریتھرولوز (Erythrulose) دریافت کی۔

یہ تحقیق اسپین کے سینٹر فار ایسٹرو بائیولوجی کے سائنس دانوں نے دو ریڈیو دوربینوں کی مدد سے انجام دی، جبکہ اس کے نتائج معروف سائنسی جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع کیے گئے ہیں۔

خلا میں پہلی بار شکر کی موجودگی کا ثبوت
ماہرین کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ ستاروں کے درمیان موجود گیس اور گرد و غبار کے وسیع خطے، جسے بین النجمی مادہ کہا جاتا میں شکر کی موجودگی کا ثبوت ملا ہے۔
زمین پر یہی شکر عام طور پر راسبیری میں پائی جاتی ہے اور بعض خودکار رنگت (سیلف ٹیننگ) والی مصنوعات میں بھی استعمال ہوتی ہے۔
زندگی کے بنیادی اجزا میں اہم کردار
ویسٹرن یونیورسٹی کینیڈا کے انسٹی ٹیوٹ فار ارتھ اینڈ اسپیس ایکسپلوریشن کی ڈائریکٹر ڈاکٹر سارہ گیلگھر کے مطابق شکر وہ بنیادی جز ہے جو ڈی این اے اور آر این اے جیسے حیاتیاتی سالمات کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

یہ  بھی پڑھیں :

نظام شمسی کے بغیر خلا میں آزاد گھومنے والے سیار ے دریافت
انہوں نے کہا کہ یہی سالمات زمین پر زندگی کی بنیاد سمجھے جاتے ہیں، اس لیے خلا میں شکر کی دریافت غیرمعمولی اہمیت رکھتی ہے۔ان کے بقول یہ دریافت اس گمشدہ کڑی کو جوڑنے میں مدد دے سکتی ہے جو اب تک یہ سمجھنے میں رکاوٹ تھی کہ زمین پر زندگی کے بنیادی اجزا کہاں سے آئے۔
شاید شہابیے زمین پر شکر لے کر آئے
سائنس دانوں کے مطابق گزشتہ برس بینو (Bennu) نامی سیارچے سے حاصل کیے گئے نمونوں میں بھی رائبوز اور گلوکوز جیسی شکریں دریافت ہوئی تھیں، جس سے یہ نظریہ مضبوط ہوا کہ ابتدائی زمین پر شکر شہابیوں اور دمدار ستاروں کے ذریعے پہنچی ہوگی۔
تاہم یہ واضح نہیں تھا کہ ان شکروں کی اصل پیدائش کہاں ہوئی۔

نئی تحقیق کے مطابق ممکن ہے کہ یہ شکر پہلے ستاروں کی پیدائش والے عظیم سالماتی بادلوں میں بنی ہو اور بعد ازاں شہابیوں اور دمدار ستاروں کے ذریعے زمین تک پہنچی ہو۔

ابتدائی زمین پر کروڑوں ٹن شکر پہنچی ہوگی
تحقیق کی سربراہ ایزاسکون خیمنیز سیرا اور ان کی ٹیم کا اندازہ ہے کہ تقریباً 4.1 سے 3.8 ارب سال قبل زمین پر شدید شہابی بمباری کے دور میں لگ بھگ 5 کروڑ ٹن ایریتھرولوز زمین تک پہنچی ہوگی۔

اگرچہ یہ نظریہ ابھی مزید تحقیق کا متقاضی ہے، تاہم سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس سے یہ امکان مضبوط ہوتا ہے کہ بین النجمی خلا نہ صرف زمین بلکہ کائنات کے دوسرے سیاروں کے لیے بھی شکر کا ایک اہم ذریعہ رہا ہو۔

کیا زندگی صرف زمین تک محدود ہے؟
میک گل یونیورسٹی کی ماہر ارضیات اور سیاروی علوم ڈاکٹر ناگیسا محمودی کے مطابق یہ تحقیق اس تصور کو مزید تقویت دیتی ہے کہ زندگی کے لیے ضروری بنیادی سالمات صرف زمین تک محدود نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر شکر جیسے حیاتیاتی اجزا شہابیوں کے ذریعے زمین تک پہنچ سکتے ہیں تو بعید نہیں کہ یہی عمل دوسرے سیاروں پر بھی ہوا ہو۔

مزید پڑھیں :

سائنس دانوں کی خلا میں حیرت انگیز دریافت 

انہوں نے کہا کہ اصل سوال یہ ہے کہ آیا زندگی صرف زمین پر موجود ہے یا پھر کائنات میں دیگر مقامات پر بھی زندگی نے جنم لیا، لیکن ہم ابھی تک اس کے شواہد دریافت نہیں کر سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی دریافت مستقبل میں خلا میں مزید شکروں اور زندگی کی ابتدا سے متعلق دوسرے اہم سالمات کی تلاش کا راستہ بھی ہموار کرے گی، جس سے یہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ کائنات میں زندگی کتنی عام یا کتنی نایاب ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں