اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)آزاد کشمیر میں عام انتخابات کے پہلے مرحلے کا آغاز ہو گیا ہے، جہاں میرپور ڈویژن کے تین اضلاع میرپور، بھمبر اور کوٹلی میں پولنگ کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ 13 انتخابی حلقوں میں ہزاروں امیدواروں کے درمیان مقابلہ جاری ہے، جبکہ سیکیورٹی اور انتظامات کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات کیے گئے ہیں۔
پہلے مرحلے میں میرپور ڈویژن کی 13 نشستوں پر ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کر رہے ہیں۔ ان نشستوں میں میرپور ضلع کی 4، بھمبر کی 3 اور کوٹلی کی 6 نشستیں شامل ہیں، جہاں مجموعی طور پر 288 امیدوار انتخابی میدان میں موجود ہیں۔
لاکھوں ووٹرز، ہزاروں پولنگ اسٹیشن
انتخابی عمل کے لیے میرپور ڈویژن میں مجموعی طور پر 14 لاکھ 437 ووٹرز رجسٹرڈ ہیں، جن میں 7 لاکھ 24 ہزار 811 مرد جبکہ 6 لاکھ 75 ہزار 626 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق پہلے مرحلے کے لیے 2 ہزار 316 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں۔ ان میں سے 1241 پولنگ اسٹیشنز کو انتہائی حساس جبکہ 724 کو حساس قرار دیا گیا ہے۔انتخابی سامان کی ترسیل مکمل ہونے کے بعد تمام پولنگ اسٹیشنز پر عملہ تعینات کر دیا گیا ہے اور ووٹنگ کا عمل مقررہ وقت پر شروع کر دیا گیا۔
سیاسی جماعتوں میں سخت مقابلہ
میرپور ڈویژن کے انتخابی میدان میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے امیدواروں کے درمیان کانٹے دار مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے، جبکہ استحکام پاکستان پارٹی اور آزاد امیدوار بھی اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کے لیے میدان میں ہیں۔
سیاسی جماعتوں نے انتخابی مہم کے دوران مختلف عوامی مسائل کو اجاگر کیا اور ووٹرز سے حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی۔ اب فیصلہ ووٹرز کے ہاتھ میں ہے کہ وہ کس جماعت یا امیدوار پر اعتماد کرتے ہیں۔
سیکیورٹی کے سخت انتظامات
آزاد کشمیر میں پرامن انتخابات کے انعقاد کے لیے سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔ میرپور ڈویژن میں مجموعی طور پر 18 ہزار 560 اہلکار سیکیورٹی پر مامور ہیں، جبکہ پاک فوج کے 2100 جوان بھی انتخابی عمل کی نگرانی اور سیکیورٹی کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :نواز شریف واقعی آزاد کشمیر کے وزیراعظم بننا چاہتے ہیں؟ انتخابات جیتنے پر کون سے بڑے منصوبے مکمل کرنے کا وعدہ کیا؟
چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر جسٹس (ر) غلام مصطفیٰ مغل نے واضح کیا ہے کہ ووٹنگ کے عمل میں رکاوٹ ڈالنے یا امن خراب کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
چیف سیکرٹری آزاد جموں و کشمیر خوشحال خان کا کہنا ہے کہ پرامن انتخابات کے لیے تمام ریاستی ادارے تیار ہیں اور انتخابی عمل میں خلل ڈالنے کی کسی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
کوٹلی میں دو پریزائیڈنگ افسران گرفتار
انتخابات کے پہلے مرحلے کے دوران کوٹلی میں دو پریزائیڈنگ افسران کے خلاف کارروائی بھی کی گئی۔ الیکشن کمیشن آزاد کشمیر کے مطابق دونوں افسران مبینہ طور پر پولنگ اسٹیشن کے بجائے نجی رہائش گاہ چلے گئے تھے۔
ترجمان الیکشن کمیشن نے بتایا کہ صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے ریٹرننگ افسر نے پولنگ بیگز اپنی تحویل میں لے لیے، جبکہ دونوں پریزائیڈنگ افسران کو معطل کرکے گرفتار کر لیا گیا۔
ان کی جگہ نئے پریزائیڈنگ افسران تعینات کیے گئے اور انہیں فوری طور پر متعلقہ پولنگ اسٹیشنز روانہ کر دیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ انتخابی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔
شفاف انتخابات کے لیے اقدامات
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر کا کہنا ہے کہ شفاف، غیر جانبدار اور پرامن انتخابات کے انعقاد کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ کسی بھی قسم کی بے ضابطگی یا غفلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
دوسری جانب مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما رانا ثنا اللہ نے کوٹلی کے حلقہ ایل اے 10 میں انتخابی عمل پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے حلقے میں انتخابات روکنے اور تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا تھا۔
اب تمام نظریں پولنگ کے اختتام اور نتائج پر ہیں، جہاں میرپور ڈویژن کے ووٹرز اپنے ووٹ کے ذریعے آئندہ سیاسی سمت کا تعین کریں گے۔