اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے پبلک سیفٹی وزیر گیری آننداسنگری نے یورپ میں جاسوسی کے الزامات کے تحت گرفتار ہونے والے کینیڈین شہری کے معاملے کی مکمل تحقیقات کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ حکومت اس معاملے کی تہہ تک جائے گی اور یہ معلوم کیا جائے گا کہ آیا گرفتار شخص نے کینیڈا کے کسی ادارے یا تنظیم کے لیے بھی کوئی کام کیا ہے یا نہیں۔
گرفتاری کا معاملہ
بیلجیئم کے وفاقی پراسیکیوٹر آفس کے مطابق ایک کینیڈین شہری کو جاسوسی اور مجرمانہ تنظیم میں شمولیت کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔حکام نے گرفتار شخص کا نام ظاہر نہیں کیا، تاہم بتایا گیا ہے کہ یہ چینی نژاد کینیڈین شہری ہے۔
نیٹو میں انٹرن
بیلجیئم حکام کے مطابق گرفتار خاتون نیٹو کے سپریم ہیڈکوارٹر الائیڈ پاورز یورپ (SHAPE) میں انٹرن کے طور پر کام کر رہی تھی۔یہ مرکز بیلجیئم کے شہر مونس میں واقع ہے اور نیٹو کی عسکری منصوبہ بندی اور آپریشنز کے حوالے سے انتہائی اہم مقام رکھتا ہے۔
پراسیکیوٹر آفس کے مطابق خاتون نیٹو کی سیکیورٹی سروسز کی نظر میں آئی، جس کے بعد معاملہ بیلجیئم کی ملٹری انٹیلی جنس ایجنسی کو رپورٹ کیا گیا۔
کینیڈا کا ردعمل
پبلک سیفٹی وزیر گیری آننداسنگری نے برٹش کولمبیا کے شہر نیو ویسٹ منسٹر میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے کوئی قیاس آرائی نہیں کرنا چاہتے۔انہوں نے کہا کہ الزامات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور حکام اس معاملے کا مکمل جائزہ لے رہے ہیں۔
تحقیقات جاری
وزیر نے کہا کہ کینیڈا یہ جاننے کی کوشش کرے گا کہ آیا گرفتار شخص نے ملک کے اندر کسی ادارے کے لیے بھی کوئی کام کیا تھا یا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ معاملے کی مکمل حقیقت سامنے لائی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔
سیکیورٹی خدشات
نیٹو جیسے دفاعی اتحاد کے مراکز میں کام کرنے والے افراد کی سیکیورٹی جانچ کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ وہاں موجود معلومات کئی ممالک کے دفاعی مفادات سے جڑی ہوتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :کینیڈا میں آر سی ایم پی پولیس اسٹیشن آگ کی نذر، فائر ہائیڈرنٹ ناکام، پورا شہر سکتے میں آگیا
ماہرین کے مطابق اس واقعے کے بعد اتحادی ممالک میں حساس اداروں تک رسائی رکھنے والے افراد کی نگرانی اور سیکیورٹی طریقہ کار پر مزید توجہ دی جا سکتی ہے۔
آئندہ اقدامات
کینیڈین حکومت کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی سے متعلق معاملات میں مکمل احتیاط اور تعاون کے ساتھ کام کیا جائے گا۔گیری آننداسنگری نے واضح کیا کہ تحقیقات کے نتائج سامنے آنے کے بعد ہی مزید تفصیلات فراہم کی جائیں گی، تاہم حکومت اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہی ہے۔