اردو رلڈ کینیڈا (ویب نیوز ) چین نے جدید فوجی ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک اور اہم پیش رفت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہتھیار سے لیس روبوٹ کتے کو فوجی مشقوں میں شامل کر لیا، جس نے عالمی سطح پر دفاعی ماہرین اور مبصرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔
اس جدید روبوٹ کو شہری جنگی ماحول میں نگرانی، جاسوسی اور خطرناک علاقوں میں معلومات اکٹھی کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے، جبکہ ضرورت پڑنے پر یہ فائرنگ کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
گولڈن ڈریگن مشقوں میں جدید روبوٹ کا مظاہرہ
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق چین اور کمبوڈیا کے درمیان منعقد ہونے والی مشترکہ فوجی مشقوں "گولڈن ڈریگن” کے دوران چار ٹانگوں والے ایک جدید روبوٹ کتے کی نمائش کی گئی۔ اس روبوٹ کی پشت پر خودکار رائفل نصب تھی، جسے مختلف جنگی مشقوں کے دوران استعمال کرتے ہوئے دکھایا گیا۔
فوجی حکام کے مطابق اس روبوٹ کا بنیادی مقصد ایسے خطرناک مقامات پر جانا ہے جہاں انسانی فوجیوں کی جان کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
جاسوسی، نگرانی اور دشمن کی نشاندہی
چینی سرکاری میڈیا کے مطابق یہ روبوٹ شہری علاقوں میں لڑائی کے دوران فوجیوں سے آگے بڑھ کر دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھ سکتا ہے مشتبہ مقامات کی نشاندہی کر سکتا ہے اور میدانِ جنگ سے فوری معلومات فراہم کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
خلا میں پہلی بار شکر کی دریافت، سائنس دانوں کا بڑا دعویٰ
مزید بتایا گیا کہ یہ روبوٹ عمارتوں، تنگ گلیوں، سرنگوں اور دیگر مشکل مقامات میں داخل ہو کر ابتدائی جاسوسی انجام دے سکتا ہے، جس سے انسانی فوجیوں کو براہِ راست خطرات کا سامنا کم کرنا پڑتا ہے۔
ڈرونز کے ساتھ مشترکہ کارروائی کی صلاحیت
چینی حکام کا کہنا ہے کہ یہ روبوٹ صرف تنہا کام کرنے تک محدود نہیں بلکہ دیگر بغیر پائلٹ نظاموں خصوصاً ڈرونز، کے ساتھ بھی مربوط انداز میں کارروائیاں انجام دے سکتا ہے۔
ایسی مشترکہ کارروائیوں کے ذریعے فضائی اور زمینی معلومات کو یکجا کرکے فوجی یونٹس کو زیادہ مؤثر اور بروقت انٹیلی جنس فراہم کی جا سکتی ہے جس سے جنگی حکمت عملی مزید مضبوط بن سکتی ہے۔
جدید ٹیکنالوجی یا نئے خدشات؟
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہتھیاروں سے لیس روبوٹ مستقبل کی جنگوں کی ایک نئی حقیقت بن سکتے ہیں تاہم ان کے استعمال سے متعدد اخلاقی، قانونی اور سیکیورٹی سے متعلق سوالات بھی جنم لے رہے ہیں۔
مزید پڑھیں :
پاکستانیوں کیلئے بڑی خوشخبری،کوہاٹ میں تیل و گیس کے بڑے ذخائر دریافت
ماہرین کے مطابق اگرچہ یہ مشینیں خطرناک علاقوں میں انسانی جانوں کے تحفظ میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں لیکن مصنوعی ذہانت سے چلنے والے ہتھیاروں کے استعمال، ان کی قابلِ اعتماد کارکردگی، ممکنہ غلطیوں اور جنگی قوانین کے مطابق ان کے استعمال پر عالمی سطح پر بحث جاری ہے۔
مستقبل کی جنگوں کا نیا رخ
عالمی دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق دنیا کی بڑی طاقتیں مصنوعی ذہانت، خودکار ہتھیاروں اور روبوٹک نظاموں کی تیاری میں تیزی سے سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔
چین کی جانب سے ہتھیار بردار روبوٹ کتے کا عملی مظاہرہ اسی بدلتی ہوئی عسکری حکمت عملی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے، جو مستقبل میں جنگی میدان کی نوعیت کو مزید تبدیل کر سکتا ہے۔