اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)اسرائیلی حکومت نے انکشاف کیا ہے کہ وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے طیارے کو کینیڈا کی فضائی حدود سے گزرنے کے لیے باقاعدہ اجازت طلب کی گئی تھی، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آیا کینیڈا نے یہ اجازت دی بھی تھی یا نہیں۔ دوسری جانب کینیڈین حکومت نے بھی اس حساس معاملے پر براہِ راست جواب دینے سے گریز کیا ہے۔
نیتن یاہو کا طیارہ کینیڈا سے گزرا
اسرائیلی سرکاری طیارہ "ونگ آف زایون” واشنگٹن جاتے ہوئے نیوفاؤنڈ لینڈ اور نووا اسکاٹیا سمیت کینیڈا کی فضائی حدود سے گزرا۔ نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات اور امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے واشنگٹن کا دورہ کیا۔
وارنٹ گرفتاری
بنیامین نیتن یاہو کو نومبر 2024 سے بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کی جانب سے جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات پر مطلوب قرار دیا گیا ہے۔ ان پر غزہ میں قتل، ظلم و ستم اور بھوک کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے الزامات کے تحت وارنٹ گرفتاری جاری ہے۔
کینیڈا خاموش
وزیراعظم مارک کارنی کے دفتر نے اس بات کی تصدیق یا تردید نہیں کی کہ نیتن یاہو کے طیارے کو فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دی گئی تھی یا نہیں۔ دفتر کا کہنا تھا کہ کینیڈا عام طور پر فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت کو قانون نافذ کرنے کے مقاصد سے نہیں جوڑتا، سوائے ان معاملات کے جہاں فوری سیکیورٹی خطرہ موجود ہو۔
ادھر کینیڈا کی وزارتِ خارجہ نے ایک بار پھر کہا کہ کینیڈا بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی فوجداری عدالت کے فیصلوں کا احترام کرتا ہے اور روم اسٹیٹوٹ کے تحت اپنی ذمہ داریوں کا پابند ہے۔
ماہرین نے سوالات اٹھا دیے
بین الاقوامی قانون کے ماہر مارک کرسٹن کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملک کی فضائی حدود اس کی خودمختار سرزمین کا حصہ ہوتی ہیں، اس لیے کسی غیر ملکی حکومتی طیارے کو وہاں سے گزرنے کے لیے اجازت درکار ہوتی ہے۔
ان کے مطابق اگر نیتن یاہو کے طیارے کو فضائی حدود استعمال کرنے دی گئی تو یہ نہ صرف کینیڈا کی خودمختاری بلکہ بین الاقوامی قانون سے متعلق بھی اہم سوالات کو جنم دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر جنگی جرائم کے ملزم رہنماؤں کو آزادانہ نقل و حرکت دی جائے تو اس سے ایک خطرناک نظیر قائم ہو سکتی ہے۔
پہلے مختلف راستے اختیار کیے گئے
رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو ماضی میں امریکہ جاتے ہوئے کئی مرتبہ ایسے فضائی راستے اختیار کر چکے ہیں جن سے کینیڈا یا بعض یورپی ممالک کی فضائی حدود سے گزرنے سے گریز کیا گیا۔ تاہم دسمبر 2025، فروری 2026 اور اب حالیہ دورے کے دوران ان کا طیارہ کینیڈا کی فضائی حدود سے گزرا۔
دو امکانات زیرِ غور
ماہرین کے مطابق اس معاملے میں دو امکانات ہو سکتے ہیں۔ یا تو کینیڈا نے خاموشی سے پرواز کی اجازت دی، یا پھر اجازت نہ ہونے کے باوجود اسرائیلی طیارہ کینیڈین فضائی حدود سے گزرا اور اوٹاوا نے اس پر کوئی عوامی ردعمل نہیں دیا۔
یہ معاملہ اب کینیڈا کی خودمختاری، بین الاقوامی قانون اور آئی سی سی کے فیصلوں پر عملدرآمد کے حوالے سے نئی بحث کو جنم دے رہا ہے