اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں آئندہ میئر انتخابات کی دوڑ مزید دلچسپ ہو گئی ہے۔ سابق کنزرویٹو رکن پارلیمنٹ اور سابق وفاقی وزیر کرس الیگزینڈر نے بھی باضابطہ طور پر میئر کے عہدے کے لیے انتخاب لڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ان کے انتخابی ترجمان ولف ڈینک کے مطابق کرس الیگزینڈر بدھ کو ٹورنٹو سٹی ہال میں اپنی امیدواری رجسٹر کرائیں گے۔
انتخابی مہم کا آغاز
کرس الیگزینڈر کی انتخابی ویب سائٹ منگل کی شام باضابطہ طور پر متعارف کرائی گئی، جس کے فوراً بعد انہوں نے ٹورنٹو کے میئر کا الیکشن لڑنے کی تصدیق کی۔
اپنی مہم میں انہوں نے کہا کہ ٹورنٹو کو بہتر انتظام، تیز تر ترقی اور واضح سمت کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر میں موجود صلاحیت کے باوجود گزشتہ چند برسوں میں پیش رفت سست رہی ہے۔
رہائش اور ٹرانزٹ شامل
کرس الیگزینڈر نے اپنی انتخابی ترجیحات میں شہر کے بجٹ کو بہتر بنانا، ٹریفک کے مسائل حل کرنا، زوننگ قوانین میں بہتری، پبلک ٹرانزٹ کو زیادہ تیز اور قابلِ اعتماد بنانا شامل کیا ہے۔
انہوں نے نوجوانوں اور تارکینِ وطن کے لیے کرائے کے گھروں تک رسائی آسان بنانے، پیدل چلنے کے لیے بہتر ماحول پیدا کرنے اور ٹورنٹو کے مستقبل کے اہداف کو زیادہ بلند رکھنے پر بھی زور دیا۔
"ٹورنٹو تین سال سے رکا ہوا ہے”
اپنی ویب سائٹ پر کرس الیگزینڈر نے کہا کہ وہ اس لیے انتخاب لڑ رہے ہیں کیونکہ ٹورنٹو گزشتہ تین سال سے ٹھہرا ہوا محسوس ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کے بہترین شہروں میں شامل ہونے کی صلاحیت رکھنے والے ٹورنٹو کو مزید بہتر بنانے کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
سیاست اور سفارت کاری کا تجربہ
کرس الیگزینڈر کا تعلق ٹورنٹو سے ہے اور وہ کہتے ہیں کہ وہ اسی شہر میں بڑے ہوئے اور اب اپنے تین بچوں کی پرورش بھی یہیں کر رہے ہیں۔
انہوں نے اپنی مہم میں کہا کہ ان کا زیادہ تر کیریئر عوامی خدمت میں گزرا، جس میں افغانستان میں خدمات انجام دینا اور وفاقی کابینہ کا حصہ بننا شامل ہے، اور اب وہ اپنا تجربہ اپنے شہر کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔
سابق وفاقی وزیر اور رکن پارلیمنٹ
کرس الیگزینڈر 2011 سے 2015 تک ایجیکس-پکرنگ حلقے سے رکن پارلیمنٹ رہے۔ وہ سابق وزیراعظم اسٹیفن ہارپر کی حکومت میں 2013 سے 2015 تک وفاقی وزیر برائے امیگریشن بھی رہے۔
اس سے قبل وہ کینیڈین فارن سروس سے وابستہ رہے اور 2003 سے 2005 تک افغانستان میں کینیڈا کے پہلے مستقل سفیر کے طور پر خدمات انجام دیں۔
متنازع بل پر تنقید کا سامنا
کرس الیگزینڈر کو 2014 میں اس وقت بھی توجہ ملی جب انہوں نے "باربیرک کلچرل پریکٹسز” بل متعارف کرایا، جس کا مقصد مبینہ طور پر جبری شادیوں، نام نہاد غیرت کے نام پر جرائم اور کثیر ازدواجی معاملات سے نمٹنا تھا۔
تاہم اس بل پر سیاسی اور سماجی حلقوں میں بحث بھی ہوئی۔ 2015 کے انتخابات میں کنزرویٹو پارٹی کی شکست کے بعد وہ اپنی نشست برقرار نہ رکھ سکے۔
میئر کی دوڑ پہلے ہی دلچسپ
کرس الیگزینڈر کی شمولیت کے بعد ٹورنٹو میئر کی دوڑ مزید بھر گئی ہے۔ اس وقت 30 سے زائد امیدوار میدان میں ہیں۔موجودہ میئر اولیویا چاؤ بھی دوبارہ انتخاب لڑنے کا ارادہ رکھتی ہیں، جبکہ کونسلر بریڈ بریڈفورڈ کو بھی اہم امیدوار قرار دیا جا رہا ہے۔
کرس الیگزینڈر کی آمد نے ٹورنٹو کی سیاسی فضا میں ایک نیا رخ پیدا کر دیا ہے، تاہم یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ عوامی حمایت حاصل کر کے موجودہ مضبوط امیدواروں کو کتنا چیلنج دے پاتے ہیں۔