اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس/اے آئی) کے تیزی سے فروغ کے ساتھ دنیا بھر میں یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ آیا یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں کروڑوں افراد کی ملازمتوں کے لیے خطرہ بنے گی یا معاشی ترقی اور نئے مواقع کا ذریعہ ثابت ہوگی۔
اس حوالے سے میٹا کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ نے اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اے آئی انسانوں کی ملازمتیں ختم کرنے کے بجائے نئی معاشی سرگرمیوں اور روزگار کے مواقع پیدا کرے گی۔
اے آئی کے بارے میں عام خدشات
گزشتہ چند برسوں کے دوران متعدد ماہرین، معاشی تجزیہ کاروں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے نمائندوں نے پیشگوئی کی ہے کہ مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال سے کئی شعبوں میں روایتی ملازمتیں ختم ہو سکتی ہیں۔ خاص طور پر دفتری، انتظامی اور معمول کے کاموں میں خودکار نظام انسانوں کی جگہ لے سکتے ہیں جس کے باعث بے روزگاری میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے۔
مارک زکربرگ کا مختلف مؤقف
مارک زکربرگ نے حال ہی میں ایک امریکی اخبار میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں اس نقطۂ نظر سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ اے آئی کے مستقبل کا انحصار صرف ٹیکنالوجی کی صلاحیت پر نہیں بلکہ اس بات پر ہوگا کہ اس کا اختیار اور استعمال کس کے ہاتھ میں ہے۔
ان کے مطابق اگر جدید اے آئی تک رسائی صرف حکومتوں یا چند طاقتور اداروں تک محدود رہی تو اس کے فوائد بھی محدود رہیں گے، جبکہ وسیع پیمانے پر عوامی رسائی سے زیادہ افراد اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
عوامی رسائی سے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں :
انسانی ہدایات نظرانداز کرنے والے اے آئی چیٹ بوٹس میں اضافہ، چونکا دینے والے انکشافات
میٹا کے چیف ایگزیکٹو کا کہنا تھا کہ جب زیادہ سے زیادہ افراد کو اے آئی ٹولز تک رسائی حاصل ہوگی تو وہ نئے کاروبار شروع کرنے، اپنی پیداواری صلاحیت بڑھانے اور اختراعی منصوبوں پر کام کرنے کے قابل ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس عمل سے نہ صرف کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا بلکہ نئی ملازمتیں بھی پیدا ہوں گی، جو معیشت کے لیے مثبت ثابت ہو سکتی ہیں۔
متضاد بیانیے پر حیرت
مارک زکربرگ نے اس بات پر بھی حیرت کا اظہار کیا کہ اے آئی پر کام کرنے والے بعض ماہرین ایک طرف یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی انسانوں کے کردار کو کمزور کر دے گی اور لاکھوں ملازمتیں ختم ہو جائیں گی، جبکہ دوسری جانب وہ خود اسی ٹیکنالوجی کی ترقی میں سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی کو واقعی یقین ہے کہ کوئی ٹیکنالوجی انسانیت کے لیے خطرناک ثابت ہوگی تو پھر اس کی تیز رفتار ترقی پر کام کرنا ایک متضاد طرزِ عمل ہے۔
اے آئی ایک معاون ٹول ثابت ہوگی
زکربرگ کے مطابق مصنوعی ذہانت انسانوں کی جگہ لینے کے بجائے ان کی صلاحیتوں میں اضافہ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی ایک ایسا ٹول بن سکتی ہے جو لوگوں کو اپنی زندگیوں میں آگے بڑھنے، بہتر فیصلے کرنے اور زیادہ مؤثر انداز میں کام انجام دینے میں مدد فراہم کرے۔
ان کے خیال میں مختلف شعبوں میں اے آئی کے استعمال سے افراد کم وقت میں زیادہ کام کر سکیں گے اور نئی مہارتیں سیکھنے کے مواقع بھی بڑھیں گے۔
ماضی کی ٹیکنالوجیز کی مثال
مارک زکربرگ نے اپنی رائے کی تائید میں ماضی کی بڑی تکنیکی ایجادات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور اسمارٹ فونز سمیت کئی ایسی ٹیکنالوجیز ابتدا میں خدشات کا باعث بنی تھیں، مگر بعد میں انہی ایجادات نے نئی صنعتوں، کاروباروں اور روزگار کے بے شمار مواقع پیدا کیے۔
مزید پڑھیں :
پاکستانی نوجوان کی بڑی کامیابی: اے آئی پر مبنی منفردسافٹ ویئر تیار کر لیا
ان کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت بھی اسی طرح کی ایک انقلابی ٹیکنالوجی ثابت ہو سکتی ہے، جو انسانوں کو بااختیار بنانے اور عالمی معیشت میں نئی راہیں کھولنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
ماہرین میں اتفاقِ رائے موجود نہیں
اگرچہ مارک زکربرگ کا مؤقف کافی پرامید ہے، تاہم اس موضوع پر ماہرین کے درمیان مکمل اتفاق رائے موجود نہیں۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ اے آئی کئی روایتی ملازمتوں کو متاثر کرے گی، جبکہ دیگر کے مطابق یہ نئی مہارتوں، نئے شعبوں اور جدید کاروباری ماڈلز کے ذریعے روزگار کے مزید مواقع پیدا کرے گی۔
اسی وجہ سے دنیا بھر میں حکومتیں، تعلیمی ادارے اور نجی کمپنیاں مستقبل کی ضروریات کے مطابق افرادی قوت کو نئی مہارتیں سکھانے اور اے آئی کے ذمہ دارانہ استعمال کے لیے حکمت عملی تیار کر رہی ہیں۔