اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ہنگامی ملاقات کی ہے، جس کا مقصد سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا خصوصی پیغام امریکی صدر تک پہنچانا تھا۔
امریکی میڈیا کے مطابق یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں ایران، عراق، حوثیوں اور خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پر کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
جے ڈی وینس سے ملاقات کے بعد ٹرمپ سے رابطہ
رپورٹس کے مطابق سعودی وزیر دفاع نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات کے بعد صدر ٹرمپ سے ملاقات کی۔
اس سے قبل نائب صدر وینس کے ساتھ گفتگو میں شہزادہ خالد بن سلمان نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر سعودی عرب کا مؤقف پیش کیا اور کہا کہ ریاض ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کا خواہاں ہے۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں استحکام سعودی عرب سمیت تمام ممالک کے مفاد میں ہے اور تنازعات کو بڑھانے کے بجائے سفارتی راستہ زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔
عراق میں کارروائی پر سعودی مؤقف
سعودی وزیر دفاع نے امریکی نائب صدر کو بتایا کہ ایران نواز عراقی ملیشیاؤں کی جانب سے بنیادی ڈھانچے اور توانائی کی تنصیبات پر حملوں نے ایک حد عبور کر دی تھی، جس کے بعد جواب دینا ضروری ہو گیا تھا۔
انہوں نے واضح کیا کہ عراق میں کی گئی کارروائی کا مقصد کشیدگی کو بڑھانا نہیں تھا بلکہ یہ پیغام دینا تھا کہ سعودی عرب اپنی سلامتی اور دفاع کے لیے تیار ہے۔
یہ بھی پڑھیں :کینیڈین آگ پر ٹرمپ کی تنقید مسترد، امریکی سینیٹر نے الزامات کو ’مذاق‘ قرار دے دیا
شہزادہ خالد بن سلمان کے مطابق سعودی عرب کسی بھی خطرے کو نظر انداز نہیں کر سکتا، تاہم اس کی ترجیح خطے میں مزید کشیدگی پیدا کرنا نہیں بلکہ امن و استحکام برقرار رکھنا ہے۔
ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کی خواہش
سعودی وزیر دفاع نے جے ڈی وینس سے گفتگو میں کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو ایران کے ساتھ کشیدگی میں اضافے پر زور دے رہے ہیں، تاہم سعودی عرب صورتحال کو مزید خراب کرنے کے بجائے تناؤ کم کرنے کے راستے کو زیادہ فائدہ مند سمجھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خطے کے ممالک کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو بڑے تنازع کا سبب بن سکتے ہیں۔
حوثیوں کے معاملے پر سعودی حکمت عملی
امریکی میڈیا نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ سعودی عرب کی عراق میں کارروائیوں کا ایک مقصد حوثیوں کو بھی پیغام دینا تھا کہ مملکت اپنی سلامتی کے دفاع کی صلاحیت رکھتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق سعودی وزیر دفاع نے امریکی نائب صدر کو بتایا کہ سعودی عرب حوثیوں سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور فی الحال اس معاملے پر براہ راست امریکی مداخلت کی ضرورت نہیں۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حوثیوں کے ساتھ مذاکرات کا عمل بھی جاری ہے اور سعودی عرب مسئلے کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کو اہمیت دے رہا ہے۔
امریکا سے رابطوں میں اضافہ
شہزادہ خالد بن سلمان کی واشنگٹن میں ملاقاتیں ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب امریکا مشرق وسطیٰ میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ سکیورٹی معاملات پر مشاورت کر رہا ہے۔
سعودی عرب خطے میں ایک اہم اتحادی ہونے کے باعث ایران کے حوالے سے امریکی پالیسی، عراق کی صورتحال اور حوثیوں کے مسئلے پر مسلسل رابطے میں ہے۔
خطے میں توازن برقرار رکھنے کی کوشش
ماہرین کے مطابق سعودی قیادت ایک طرف اپنی سلامتی کے خطرات سے نمٹنے کا پیغام دے رہی ہے، جبکہ دوسری جانب ایران کے ساتھ براہ راست تصادم سے بچنے کی کوشش بھی کر رہی ہے۔
سعودی عرب کا مؤقف ہے کہ خطے کے مسائل کا حل طویل جنگوں کے بجائے مذاکرات اور سفارتی کوششوں سے نکالا جا سکتا ہے۔
شہزادہ خالد بن سلمان کی امریکی قیادت سے حالیہ ملاقاتیں اسی پالیسی کا حصہ قرار دی جا رہی ہیں، جن میں سکیورٹی خدشات کے ساتھ ساتھ کشیدگی کم کرنے کے امکانات پر بھی بات چیت کی گئی۔