سعودی عرب نے پاکستان کے 5 ارب ڈالر قرض کی واپسی مؤخر کر دی، ادائیگیوں کا دباؤ کم

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)پاکستان کے لیے ایک اہم مالی سہولت سامنے آئی ہے، جہاں سعودی عرب نے پاکستان کے 5 ارب ڈالر قرض کی واپسی مزید تین سال کے لیے مؤخر کر دی ہے۔ اس فیصلے سے پاکستان کو فوری بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ میں کمی کا سامنا ہوگا اور زرمبادلہ کی صورتحال بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے قرض کی واپسی میں توسیع سے رواں مالی سال کے دوران پاکستان کی بیرونی مالی ضروریات میں نمایاں کمی آئے گی۔

سعودی عرب کے 8 ارب ڈالر ڈیپازٹس موجود

اسٹیٹ بینک کے مطابق پاکستان کے پاس سعودی عرب کے مجموعی طور پر 8 ارب ڈالر کے ڈیپازٹس موجود ہیں، جو ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے کے لیے رکھے گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان نے رواں سال اپریل میں سعودی عرب سے 3 ارب ڈالر حاصل کیے تھے۔ یہ رقم تین ماہ کے لیے فراہم کی گئی تھی، جس کے ذریعے پاکستان نے متحدہ عرب امارات کو اپنی مالی ذمہ داریاں پوری کیں۔اب اس قرض کے رول اوور ہونے کے بعد پاکستان کو فوری طور پر یہ رقم واپس نہیں کرنا پڑے گی۔

بیرونی مالی ضروریات میں کمی

اسٹیٹ بینک کے مطابق سعودی قرض کی توسیع کے باعث رواں سال پاکستان کی بیرونی مالی ضروریات کم ہو کر تقریباً 21.5 ارب ڈالر رہ گئی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف ادائیگیوں کا دباؤ کم ہوگا بلکہ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کو برقرار رکھنے میں بھی مدد ملے گی۔

یہ بھی پڑھیں :پنجاب میں 10 لاکھ کسانوں تک کسان کارڈ پروگرام توسیع کے قریب، 360 ارب روپے کے بلاسود قرضے جاری

اس کے علاوہ غیرملکی قرضوں پر سود کی ادائیگیوں میں بھی تقریباً 50 کروڑ ڈالر کی کمی متوقع ہے، جس سے بیرونی مالی انتظام بہتر بنانے میں آسانی ہوگی۔

جولائی میں 2.2 ارب ڈالر کی ادائیگیاں

اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان نے جولائی میں مختلف بیرونی قرضوں کی مد میں تقریباً 2.2 ارب ڈالر واپس کیے ہیں۔

حکام کے مطابق قرضوں کی بروقت ادائیگی اور دیگر مالی اقدامات کے باوجود حکومت بیرونی فنانسنگ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مختلف ذرائع استعمال کر رہی ہے۔

چین کے قرض کی ری فنانسنگ متوقع

پاکستان کو آئندہ ماہ چین سے حاصل کیے گئے 1.3 ارب ڈالر کے کمرشل قرض کی ری فنانسنگ کی توقع ہے۔ری فنانسنگ کے ذریعے پاکستان کو فوری ادائیگی سے ریلیف ملے گا اور بیرونی قرضوں کے انتظام میں آسانی پیدا ہوگی۔

حکام کا کہنا ہے کہ دوست ممالک کے تعاون اور مالی اقدامات کے ذریعے پاکستان اپنی بیرونی ادائیگیوں کو بہتر انداز میں منظم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اسٹیٹ بینک کی ڈالر خریداری

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے گزشتہ مالی سال کے دوران اوپن مارکیٹ سے تقریباً 9 ارب ڈالر خریدے۔مرکزی بینک کے مطابق اس اقدام کا مقصد زرمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط کرنا اور مستقبل کی بیرونی ادائیگیوں کے لیے مالی گنجائش پیدا کرنا تھا۔

ماہرین کے مطابق مرکزی بینک کی جانب سے ڈالر کی خریداری سے مارکیٹ میں استحکام لانے اور ذخائر میں اضافہ کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

زرمبادلہ ذخائر بڑھانے کا ہدف

پاکستان نے دسمبر 2026 تک زرمبادلہ کے ذخائر کو 20.2 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔حکومت اور اسٹیٹ بینک کے مطابق اس مقصد کے لیے بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات میں اضافہ، ترسیلات زر اور دوست ممالک کے تعاون پر توجہ دی جا رہی ہے۔

مالی استحکام کی کوششیں جاری

معاشی ماہرین کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے قرض کی واپسی مؤخر کرنا پاکستان کے لیے ایک اہم سہولت ہے، کیونکہ اس سے فوری ادائیگیوں کا دباؤ کم ہوگا۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل مدتی مالی استحکام کے لیے پاکستان کو برآمدات میں اضافہ، درآمدی اخراجات میں توازن اور بیرونی قرضوں پر انحصار کم کرنے جیسے اقدامات جاری رکھنا ہوں گے۔

سعودی عرب کی جانب سے یہ سہولت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان اپنی معیشت کو مستحکم کرنے، زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے اور عالمی مالی ذمہ داریوں کو بہتر انداز میں پورا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں