122
جسٹس (ر)تصدق حسین جیلانی نے بذریعہ خط فیصلے سے وزیراعظم کو آگاہ کر دیا جس میں کہا گیا ہے کہ مناسب ہوگا چیف جسٹس ادارے کی سطح پر اس ایشو کا فیصلہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ خود پر اعتماد کرنے پر وزیراعظم اور کابینہ کا مشکور ہوں،
چیف جسٹس اور سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ کا بھی مشکور ہوں تاہم میں جوڈیشل کمیشن کی سربراہی نہیں کرسکتا۔ خط کے متن میں انہوں نے کہا ہے کہ میں نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججز کا خط پڑھا ہے، اس معاملے کو جوڈیشل کونسل یا سپریم کورٹ کو خود دیکھنا چاہیے، چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسی اس معاملے کو ادارہ جاتی سطح پر خود دیکھیں۔