ہائی کورٹ میں توشہ خانہ نیب ریفرنس میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی.
عدالت نے استفسار کیا کہ کیا اپیل کی سماعت آج ہونے والی ہے. اگر آپ چاہیں تو اپیل شروع نہیں کریں گے، سزا کی معطلی کی پر دلیل دیں.
وکیل علی ظفر نے کہا کہ سزا کو معطل کرنے کے بجائے ہم مرکزی اپیل پر بحث کریں گے.
چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ سائفر کیس کی سماعت کل ہونے والی ہے جو چند دنوں میں مکمل ہو جائے گی، توشہ خانہ کیس آج نہیں سنا جا سکتا، اور سائفر کیس میں ایف آئی اے کے دلائل شروع ہونے والے ہیں۔ ‘، ہمیں نہیں معلوم کہ وہ کتنا وقت لیتے ہیں، ہم عید کے بعد توشہ خانہ کیس کو برقرار رکھتے ہیں.
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے نیب پراسیکیوٹر سے پوچھا کہ کیا نیب سزا کی معطلی پر کوئی موقف پیش کرنا چا ہتا ہے
نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ فیصلے پر نظرثانی کی گئی ہے، یہ سزا کی معطلی کا معاملہ ہے، ہمیں سزا کی معطلی پر کوئی اعتراض نہیں ہے، لیکن اپیلوں کی ابھی تک سماعت نہیں ہو سکتی.
اس پر عدالت نے کہا کہ یہ نیب کا بہت ہی قابل ستائش موقف ہے، ہم اس کی تعریف کرتے ہیں.
پی ٹی آئی کے بانی کے وکیل نے درخواست کی کہ سزا بھی معطل کی جائے.
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے، اب اسے چھوڑ دیں
عدالت نے توشہ خانہ کیس میں پی ٹی آئی کے بانی اور بشریٰ بی بی کی سزا معطل کردی. یہ سزا نیب پراسیکیوٹر کے بیان کی روشنی میں معطل کر دی گئی۔
309