اردوورلڈ کینیڈا (ویب نیوز) افغانستان میں طالبان کی حکومت نے پہلی بار پاکستانیوں کو نشانہ بنانے والے افغانوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا ہے، یہ ایک اہم پیش رفت ہے جس سے اسلام آباد اور کابل کے درمیان تعلقات میں بہتری آئی ہے
پچھلے ماہ کے دوران زیادہ تر توجہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی پر مرکوز رہی ہے، لیکن اسی عرصے کے دوران اسلام آباد اور کابل نے خاموشی سے کشیدہ تعلقات کو بحال کرنے کے لیے کام کیا ہے۔پاکستان نے سب سے پہلے کابل کے نقطہ نظر میں تبدیلی کا احساس اس وقت کیا جب افغانستان کے لیے خصوصی ایلچی محمد صادق خان کی قیادت میں ایک پاکستانی وفد نے مارچ کے تیسرے ہفتے کابل کا دورہ کیا اور وفد کو سرحد پار دہشت گردانہ حملوں کو روکنے کے لیے کابل کے اقدامات سے آگاہ کیا ، اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد پہلی بار پاکستان نے محسوس کیا ہے کہ طالبان پاکستانی حکومت کے خدشات کو دور کرنے میں سنجیدہ ہیں۔
اس وقت تفصیلات سامنے نہیں آئی تھیں لیکن ذرائع نے اب تصدیق کی ہے کہ افغان طالبان نے اپنے شہریوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے جو یا تو ٹی ٹی پی میں شامل ہوئے تھے یا اس گروپ کا حصہ بننے کا اراردہ رکھتے تھے۔ذرائع نے بتایا کہ بہت سے افغان جو ٹی ٹی پی کے لیے افغان شہریوں کو بھرتی کر رہے تھے انہیں جیل میں ڈال دیا گیا۔ ذرائع نے بتایا کہ پاکستان کی جانب سے بار بار احتجاج کے بعد افغان طالبان نے بالآخر کارروائی کی اور اپنے شہریوں کے خلاف کارروائی کی جس کی وجہ سے نہ صرف کے پی میں خودکش حملوں میں نمایاں کمی آئی بلکہ 19 اپریل کو اسحاق ڈار کے دورہ کابل کی راہ بھی ہموار ہوئی۔
یہ تین سالوں میں کسی پاکستانی وزیر خارجہ کا افغان دارالحکومت کا پہلا دورہ تھا۔. اس دورے سے کابل سے یقین دہانی کرائی گئی کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں کی جائے گی، اور پاکستان نے افغان درآمد کنندگان کے لیے بینک گارنٹی کی ضرورت ختم کر دی اور افغان تجارت پر سے کچھ پابندیاں ہٹا دیں۔
طالبان حکومت نے پاکستان کا اعتماد بھی جیت لیا جب اس نے کچھ افغان شہریوں کو پکڑ لیا جنہوں نے پہلگام حملے کے فوراً بعد پاکستان میں دراندازی کی کوشش کرنے والے 70 سے زائد دہشت گردوں کو سہولت فراہم کی تھی۔. "یہ ایک مثبت آغاز ہے۔ہمیں امید ہے کہ افغان طالبان اس راستے پر چلتے رہیں گے،” ایک پاکستانی اہلکار نے کہا، جس نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی۔