اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)ینک آف کینیڈا نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی پالیسی سود کی شرح کو 2.75 فیصد پر برقرار رکھے گا۔ اس فیصلے سے جہاں کچھ علاقوں میں معاشی استحکام کی امید پیدا ہوئی ہے وہیں اس نے ہاؤسنگ مارکیٹ میں نئے خدشات بھی پیدا کر دیے ہیں۔
خاص طور پر، جاری امریکی ٹیرف کے خطرات اور گھروں کی فروخت میں کمی کینیڈا کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کو غیر یقینی خطرات لاحق ہیں۔
بینک آف کینیڈا کی طرف سے مئی 2025 میں جاری کردہ مالیاتی استحکام کی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ 2025 اور 2026 کے دوران 60% سے زیادہ رہن کی دوبارہ مالی اعانت کی توقع ہے۔ ان میں سے بہت سے مالکان کو زیادہ شرح سود کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس سے نہ صرف ان کی گھریلو آمدنی پر بوجھ بڑھے گا بلکہ مارگیج ڈیفالٹ کی شرح بھی 1990 کی دہائی کی سطح کو چھو سکتی ہے۔
ان رپورٹس میں یہ بھی ظاہر ہوا کہ اگر موجودہ معاشی دباؤ جاری رہا تو اگلے 12-18 مہینوں میں مکانات کی قیمتوں میں 26 فیصد تک کمی آسکتی ہے۔ یہ کمی نہ صرف نئے خریداروں کے لیے بلکہ موجودہ مالکان کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بنے گی، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جنہوں نے حال ہی میں زیادہ قیمتوں پر گھر خریدے ہیں۔
اپریل 2025 میں مکانات کی قیمتوں میں صرف 0.2 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ گھروں کی فروخت میں 7.5 فیصد کمی واقع ہوئی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خریدار ابھی تک اقتصادی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔
کوسٹار گروپ کے چیف اکانومسٹ کارل گومز نے کہا کہ شرح سود میں بتدریج کمی نے رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کو کسی حد تک گرنے سے روک دیا ہے، لیکن اس مارکیٹ کو دوبارہ رفتار حاصل کرنے کے لیے دیگر حالات کا برا ہونا ضروری نہیں ہے۔
امریکہ کی طرف سے کینیڈا پر 25 فیصد ٹیرف کی دھمکی نے مقامی معیشت میں مزید عدم استحکام پیدا کر دیا ہے۔ اس سے برآمدی کاروبار، ملازمتیں اور لوگوں کی آمدنی متاثر ہونے کا امکان ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ ٹیرف لاگو ہوتے ہیں تو ان سے تجارتی جنگ کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے، جو کینیڈا کی معیشت کو کساد بازاری کی طرف دھکیل سکتی ہے۔
اس تناظر میں بینک آف کینیڈا نے بھی اپنی رپورٹ میں اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ تجارتی جنگ کے امکان سے مارکیٹ میں سرمایہ کاری میں دلچسپی کم ہو جائے گی جس سے ملازمتیں ختم ہو جائیں گی اور رہن کی ادائیگی مشکل ہو جائے گی۔
ماہرین کا خیال ہے کہ صرف شرح سود میں کمی سے ہاؤسنگ مارکیٹ کو مکمل طور پر سنبھالا نہیں جا سکتا۔ اس کے ساتھ حکومت کو انکم سیکیورٹی، ملازمت کی بھروسے اور بروقت مالی مدد جیسے ہتھیاروں کا بھی استعمال کرنا ہوگا۔
آخر میں، جیسا کہ زیادہ تر تجزیہ کار کہتے ہیں، گھر کی خریداری صرف شرح سود پر نہیں ہوتی، بلکہ اعتماد، روزگار اور قابل اعتماد پالیسیوں پر بھی ہوتی ہے۔