اسکولوں کے لیے 143 ملین ڈالر کا پیکج، 1,400 اضافی اساتذہ اور تعلیمی معاونین کی تعیناتی کا اعلان

اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)البرٹا کی صوبائی حکومت نے صوبے بھر کے دباؤ کا شکار ابتدائی اسکولوں میں طلبہ کی معاونت کے لیے 143 ملین ڈالر کی خطیر رقم خرچ کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت تقریباً 1,400 اضافی اساتذہ اور تعلیمی معاونین (ایجوکیشنل اسسٹنٹس) تعینات کیے جائیں گے۔ حکومت کے مطابق اس اقدام کا مقصد ان کلاس رومز میں فوری مدد فراہم کرنا ہے جہاں طلبہ کی تعداد اور تعلیمی پیچیدگیوں کے باعث اساتذہ پر دباؤ بڑھ چکا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ نئے عملے کی اکثریت ایڈمنٹن اور کیلگری کے اسکولوں میں تعینات کی جائے گی، جہاں دستیاب تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ضرورت سب سے زیادہ ہے۔ یہ اقدام حکومت کے اس وسیع تر وعدے کا حصہ ہے جس کے تحت آئندہ تین برسوں میں مجموعی طور پر 3,000 نئے اساتذہ اور 1,500 تعلیمی معاونین کی بھرتی کی جانی ہے۔

اکتوبر میں صوبائی حکومت نے اساتذہ کی صوبہ گیر ہڑتال کے خاتمے کے لیے چارٹر کے ’’نوٹ وِد اسٹینڈنگ کلاز‘‘ کا استعمال کرتے ہوئے ایک تنخواہی معاہدہ نافذ کیا تھا، جسے اساتذہ پہلے مسترد کر چکے تھے۔ جمعرات کو کیلگری میں اعلان کے موقع پر وزیرِ اعلیٰ ڈینیئل اسمتھ نے کہا کہ اس ہڑتال نے اساتذہ کو درپیش اُن دباؤؤں کو واضح کر دیا جو آبادی میں اضافے اور خصوصی توجہ کے متقاضی طلبہ کی بڑھتی تعداد کے باعث سامنے آئے ہیں۔

ڈینیئل اسمتھ نے کہا، “اساتذہ اور اسکول انتظامیہ کے لیے ہمارا پیغام یہ ہے کہ ہم نے آپ کی بات سن لی ہے۔ ہم آپ کے ساتھ ہیں، اور مدد راستے میں ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ صرف کسی معاہدے میں طلبہ اور اساتذہ کے تناسب کی شق شامل کرنا کافی نہیں، بلکہ اس سے کہیں گہرائی میں جا کر مسائل کا حل تلاش کرنا ضروری ہے۔

اگرچہ فوری طور پر جونیئر ہائی اور ہائی اسکول کلاس رومز کے لیے اسی نوعیت کی اضافی فنڈنگ فراہم نہیں کی جا رہی، تاہم وزیرِ تعلیم ڈیمیٹریوس نکولائیڈز نے کہا کہ حکومت کنڈرگارٹن سے گریڈ 6 تک کے کلاس رومز میں موجود پیچیدہ ضروریات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کر رہی ہے، کیونکہ ابتدائی مداخلت کے سب سے زیادہ مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے مہینوں اور برسوں میں مزید اسکولوں کے لیے اضافی معاونت پر بھی غور جاری رہے گا۔

یہ 143 ملین ڈالر کی رقم وزارتِ تعلیم کے موجودہ 2025-26 کے بجٹ سے فراہم کی جا رہی ہے۔ نکولائیڈز کے مطابق یہ فنڈز فوری طور پر اسکول بورڈز کو جاری کیے جائیں گے تاکہ بھرتیوں کا عمل شروع کیا جا سکے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ تعلیمی سال کے آغاز پر یہ رقم اس لیے جاری نہیں کی گئی کیونکہ حکومت ڈیٹا پر مبنی فیصلہ کرنا چاہتی تھی اور اس وقت اسکولوں میں موجود پیچیدگیوں کی مکمل تصویر واضح نہیں تھی۔

البرٹا ٹیچرز ایسوسی ایشن کے صدر جیسن شلنگ نے اس اعلان کو حکومت کی جانب سے اس بات کا دیرینہ اعتراف قرار دیا کہ صوبے میں اسکولوں کو برسوں سے ناکافی فنڈنگ کا سامنا رہا ہے۔ ان کے مطابق اگر اساتذہ کے تحفظات کو پہلے سنجیدگی سے لیا جاتا تو تعلیمی نظام آج اس بحران کی کیفیت میں نہ ہوتا۔

حکومت کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ نئے اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں اوسط کلاس سائز 25 طلبہ پر مشتمل ہے، جبکہ ایک فیصد سے بھی کم کلاس رومز میں طلبہ کی تعداد 40 سے زیادہ ہے۔ تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ صرف کلاس سائز دباؤ کی درست عکاسی نہیں کرتا، کیونکہ دستیاب ڈیٹا کے مطابق کلاس رومز کی پیچیدگی صوبے بھر میں وسیع اور مسلسل بڑھ رہی ہے۔ صوبے کے تقریباً 89,000 کلاس رومز میں سے 27 فیصد میں 11 یا اس سے زائد ایسے طلبہ موجود ہیں جنہیں خصوصی معاونت درکار ہے یا جو انگریزی کو اضافی زبان کے طور پر سیکھ رہے ہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں