اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکہ میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) یا دیگر وفاقی امیگریشن ایجنٹوں کی فائرنگ سے ایک شہری کی ہلاکت نے ملک بھر میں شدید احتجاج
اور مظاہروں کو جنم دے دیا ہے، خاص طور پر شمال مشرقی شہر منیاپولس اور نیویارک سمیت متعدد شہروں میں مظاہرے جاری ہیں۔37 سالہ ایلکس جیفری پریٹی نامی شہری، جو منیاپولس میں ایک Intensive Care Unit (ICU نرس کے طور پر کام کرتا تھا، وفاقی ایجنٹوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگیا۔ مقامی اہل خانہ نے بتایا کہ پریٹی ایک امریکی شہری تھے اور ان کے بارے میں کہیں بھی کوئی سنگین مجرمانہ ریکارڈ نہیں تھا۔
حکام کا موقف ہے کہ واقعہ ایک امیگریشن کارروائی کے دوران پیش آیا، جس میں ایجنٹس کا دعویٰ تھا کہ پریٹی نے ان کے قریب ہتھیار لے کر آنے کی کوشش کی، جس پر فائرنگ کی گئی۔ تاہم بہت سے ویڈیو شواہد اور مظاہرین نے کہا ہے کہ پریٹی نے صرف ایک موبائل فون پکڑا ہوا تھا اور وہ ایک عورت کی مدد کے لیے سامنے آیا تھا، جس کے بعد اسے اسپرے اور دباکر گولی ماری گئی۔
احتجاج کا دائرہ ملک بھر تک پھیل گیا
اس واقعہ کے فوراً بعد منی سوٹا، نیویارک، سان فرانسسکو، بوسٹن، واشنگٹن ڈی سی اور لاس اینجلس سمیت متعدد شہروں میں مظاہرے شروع ہو گئے، جہاں لوگوں نے ICE اور وفاقی امیگریشن پالیسیوں کے خلاف پر زور نعرے لگائے۔ نیویارک میں شدید سرد موسم کے باوجود ہزاروں افراد نے سڑکوں پر نکل کر امیگریشن ایجنسی کے خلاف احتجاج کیا اور اصلاحات، شفاف تحقیقات اور طاقت کے بے جا استعمال کے خلاف مطالبات کیے۔
منی سوٹا کی گورنمنٹ نے مطالبہ کیا ہے کہ وفاقی ایجنٹ ریاست سے واپس چلے جائیں، اور واقعہ کی آزاد تحقیقات کی جائے، جبکہ بعض مقامی حکومتی عہدیداروں نے امیگریشن کارروائیوں پر شفافیت اور احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ واقعہ اسی ماہ پیش آنے والے ایک اور فائرنگ واقعہ کے بعد آیا ہے، جس میں ICE کے ایک ایجنٹ کی فائرنگ سے **رینی گڈ** نامی خاتون شہری ہلاک ہوئی تھی — اسی سلسلے نے پہلے سے ہی عوامی غبرگو کو ہوا دی تھی۔ پریٹی کی ہلاکت کے بعد ملک میں سیاسی تناؤ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ مقامی حکام اور بعض قانون سازوں نے ICE اور وفاقی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی پالیسیوں پر سخت تنقید کی ہے، جبکہ کچھ وفاقی رہنما ایجنٹس کے دفاع میں کھڑے ہیں۔
کئی ڈیموکریٹک ارکانِ کانگریس نے ICE کے فنڈز کو روکنے کی دھمکی دی ہے اور وفاقی ایجنسی کی کارروائیوں کے خلاف قانون سازی کا عندیہ دیا ہے، جس سے حکومت کے مالی معاملات اور ایجنسی کی مستقبل کی کارروائیوں پر براہِ راست اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔