اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے وزیر خزانہ اور قومی محصول فرانسوا-فلپ شیمپین نے کہا ہے کہ منی لانڈرنگ ایک سنگین جرم ہے جو ملک کے مالیاتی نظام کو نقصان پہنچاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت اس جرم کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کر رہی ہے اور اس سلسلے میں نگرانی اور قانونی کارروائی کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق، آج ہی 23 مالیاتی خدمات فراہم کرنے والے کاروباروں کی رجسٹریشن منسوخ کر دی گئی ہے، جو ملک میں قانونی طور پر کام کرنے کے لیے لازمی تھی۔ یہ اقدام منی لانڈرنگ کے خلاف تیزی سے بڑھتے ہوئے کریک ڈاؤن کی عکاسی کرتا ہے۔
حکومت نے رائل کینیڈین ماونٹڈ پولیس (آر سی ایم پی) کو اضافی وسائل فراہم کیے ہیں، ایک نئی کینیڈین مالی جرائم ایجنسی قائم کی جا رہی ہے اور بل سی-۱۲ کے تحت قانونی دفعات کو مضبوط کیا جا رہا ہے تاکہ مالی جرائم کی روک تھام میں مزید کامیابی حاصل کی جا سکے۔
اس کے ساتھ ساتھ کرپٹو کرنسی اور کرپٹو اے ٹی ایم جیسے شعبوں میں بھی نگرانی بڑھائی جا رہی ہے، تاکہ اس فیلڈ میں ہونے والے فراڈ اور منی لانڈرنگ کو روکا جا سکے۔ وزیر خزانہ نے زور دیا کہ یہ اقدامات نہ صرف مالیاتی نظام کی حفاظت کے لیے ضروری ہیں بلکہ عام شہریوں اور کاروباروں کے لیے شفافیت اور اعتماد کو بھی فروغ دیتے ہیں۔
یہ نئے اقدامات کینیڈا میں منی لانڈرنگ کے خلاف حکومت کی پالیسی میں ایک مضبوط پیغام ہیں، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مالی جرائم کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور ہر قانونی ادارے کو ذمہ داری سے کام کرنا ہوگا۔