اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) کیوبک حکومت نے آئندہ برسوں کے لیے امیگریشن کے اہداف میں نمایاں کمی کا اعلان کیا ہے۔
نئی امیگریشن پالیسی کے مطابق، اب ہر سال صرف 45 ہزار نئے مستقل رہائشیوں کو قبول کیا جائے گا، جو اس سال کینیڈا کے صوبہ کیوبک میں آنے والے تقریباً 61 ہزار مستقل رہائشیوں کے مقابلے میں خاصی کمی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ صوبے میں فرانسیسی زبان کے فروغ اور سماجی ہم آہنگی کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
نئی امیگریشن پالیسی میں بتایا گیا کہ حکومت نے اس سے بھی زیادہ کٹوتی پر غور کیا تھا، اور ایک موقع پر سالانہ ہدف کو صرف 25 ہزار تک محدود کرنے کی تجویز بھی زیرِ غور رہی۔ تاہم، مشاورت کے بعد حکومت نے نسبتاً معتدل ہدف مقرر کیا۔ کیوبک کے حکام کے مطابق، حکومت کا مقصد یہ ہے کہ 2029 تک 80 فیصد نئے آنے والے تارکین وطن کو فرانسیسی زبان کی درمیانی سطح کی سمجھ حاصل ہو، جب کہ 2019 میں یہ تناسب صرف 50 فیصد تھا۔
نئی پالیسی کے تحت حکومت نے عارضی غیر ملکی کارکنوں اور بین الاقوامی طلبہ کی تعداد میں بھی کمی کا عندیہ دیا ہے۔ منصوبے کے مطابق، 2029 تک ان کی تعداد میں 2024 کے مقابلے میں 13 فیصد کمی کی جائے گی، خصوصاً مونٹریال اور لاویل کے علاقوں میں۔ اس اقدام کا مقصد مقامی آبادی پر دباؤ کم کرنا اور فرانسیسی زبان کے ماحول کو برقرار رکھنا بتایا گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق، اس وقت کیوبک میں تقریباً 5 لاکھ 62 ہزار عارضی تارکین وطن مقیم ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ پالیسی صوبے کی لسانی شناخت کے تحفظ کے لیے اہم ہے، مگر اس سے مزدوروں کی قلت اور تعلیمی اداروں پر اثرات پڑ سکتے ہیں، جن کا انحصار بڑی حد تک بین الاقوامی طلبہ اور تارکین وطن پر ہے۔