اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) چینی سائنس دانوں نے دانتوں کی صفائی اور خوبصورتی کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے
ایسا دانت سفید کرنے والا پاؤڈر تیار کیا ہے جو دانتوں کو نقصان پہنچائے بغیر مؤثر انداز میں سفید کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ جدید پاؤڈر برقی ٹوتھ برش کی جھنجھناہٹ (وائبریشن) سے متحرک ہو جاتا ہے، جس کے باعث دانتوں کی سطح پر جمی میل اور داغ محفوظ طریقے سے ختم کیے جا سکتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نئی ایجاد کے بعد گھریلو سطح پر دانت سفید کرنے کے ایسے طریقے متعارف کروانے کی راہ ہموار ہو گئی ہے جو نہ صرف آسان ہوں گے بلکہ منہ اور دانتوں کی مجموعی صحت کے لیے بھی محفوظ ثابت ہوں گے۔سائنس دانوں کے مطابق دانتوں پر داغ پڑنے کی وجوہات مختلف ہو سکتی ہیں، جن میں جینیاتی عوامل کے علاوہ کافی، چائے، ٹماٹر، رنگ دار مشروبات اور بعض غذائیں شامل ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض اوقات باقاعدگی سے دانت صاف کرنے کے باوجود بھی داغ بن سکتے ہیں، جو عام ٹوتھ پیسٹ سے مکمل طور پر ختم نہیں ہوتے۔
عام طور پر دانت سفید کرنے کے لیے مارکیٹ میں دستیاب کیمیائی وائٹنرز استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ماہرین طویل عرصے سے ان کے ممکنہ نقصانات سے خبردار کرتے آ رہے ہیں۔ خاص طور پر پیروکسائیڈ پر مشتمل بلیچنگ جیل اور ماؤتھ واش دانتوں کی سطح پر ایسے مالیکیولز پیدا کرتے ہیں جنہیں سائنسی زبان میں ری ایکٹیو آکسیجن اسپیشیز (ROS) کہا جاتا ہے۔ یہ مالیکیولز جہاں داغ ختم کرتے ہیں وہیں دانتوں کے قدرتی حفاظتی خول یعنی انامل کو بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
چینی محققین کی جانب سے تیار کیا گیا نیا پاؤڈر اس مسئلے کا متبادل حل پیش کرتا ہے۔ یہ پاؤڈر برقی ٹوتھ برش کی وائبریشن سے فعال ہو کر صرف داغ پیدا کرنے والے ذرات کو نشانہ بناتا ہے، جبکہ دانتوں کے انامل کو محفوظ رکھتا ہے۔ محققین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی دانتوں کی ساخت کو متاثر کیے بغیر قدرتی سفیدی بحال کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ماہرین پُرامید ہیں کہ آئندہ مراحل میں اس ایجاد کو مزید بہتر بنا کر کمرشل سطح پر متعارف کروایا جائے گا، جس سے دانتوں کی دیکھ بھال کے شعبے میں ایک محفوظ اور جدید متبادل دستیاب ہو سکے گا۔