اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) پاکستان نے جنوبی افریقہ کے خلاف ون ڈے سیریز میں شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے 1-2 سے کامیابی حاصل کی جس سے قومی ٹیم کے حوصلے بلند ہو گئے ہیں
اب قومی شاہینوں کے لیے سری لنکا کے خلاف آنے والی سیریز ایک نیا امتحان ہے جنوبی افریقہ کے خلاف تیسرے اور آخری ون ڈے میچ میں پاکستان نے شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے سات وکٹوں سے کامیابی حاصل کی جس سے شائقین کرکٹ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی
فیصل آباد کے اقبال اسٹیڈیم میں کھیلے گئے فیصلہ کن میچ میں پاکستان نے جنوبی افریقہ کو 143 رنز پر ڈھیر کر دیا وکٹ اسپنرز کے لیے مددگار ثابت ہوئی جس سے قومی بولرز نے بھرپور فائدہ اٹھایا خاص طور پر ابرار احمد نے تباہ کن بولنگ کرتے ہوئے حریف ٹیم کی بیٹنگ لائن کو ہلا کر رکھ دیا انہوں نے صرف 27 رنز کے عوض چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا سلمان علی آغا اور محمد نواز نے دو دو وکٹیں حاصل کیں جبکہ کپتان شاہین شاہ آفریدی نے آخری دو وکٹیں اپنے نام کیں
پاکستان نے مطلوبہ ہدف باآسانی تین وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا سیم ایوب نے 70 گیندوں پر 77 رنز کی شاندار اننگز کھیلی محمد رضوان نے 32 اور بابراعظم نے 27 رنز کا اضافہ کیا جنوبی افریقہ کے وکٹ کیپر بلے باز کوئنٹن ڈی کوک نے ایک بار پھر عمدہ بلے بازی کی اور 53 رنز بنائے لیکن باقی ٹیم مکمل طور پر ناکام رہی ابتدائی شراکت کے بعد جنوبی افریقہ کی نو وکٹیں صرف 56 رنز کے اندر گر گئیں
اس سے قبل جنوبی افریقہ نے دوسرا ون ڈے آٹھ وکٹوں سے جیت کر سیریز برابر کر دی تھی اس میچ میں ڈی کوک نے ناقابل شکست 123 اور ٹونی ڈی زورزی نے 76 رنز بنائے پاکستان نے پہلی اننگز میں 269 رنز اسکور کیے تھے جن میں محمد نواز کے 59 اور سیم ایوب کے 53 رنز نمایاں رہے بابراعظم کی ناکامی ایک بار پھر ٹیم کے لیے مایوس کن لمحہ بنی
پہلے ون ڈے میچ میں پاکستان نے 264 رنز کا ہدف آٹھ وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر کے شائقین کے دل جیت لیے تھے اس میچ میں سلمان علی آغا نے 62 محمد رضوان نے 55 فخر زمان نے 45 اور سیم ایوب نے 39 رنز بنائے بولنگ میں نسیم شاہ اور ابرار احمد نے تین تین جبکہ سیم ایوب نے دو وکٹیں حاصل کیں کوئنٹن ڈی کوک نے 63 رنز بنائے لیکن ٹیم کو کامیابی نہ دلا سکے
ٹیسٹ سیریز میں پاکستان نے پہلا میچ لاہور میں 93 رنز سے جیت کر قیمتی پوائنٹس حاصل کیے تجربہ کار اسپنر نعمان علی نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے میچ میں دس وکٹیں حاصل کیں دوسرے ٹیسٹ میں پنڈی اسٹیڈیم پر پاکستان کی بیٹنگ لائن فلاپ ہو گئی اور ٹیم کو آٹھ وکٹوں سے شکست ہوئی اس میچ میں بابراعظم نے طویل عرصے بعد ہوم گراؤنڈ پر نصف سنچری اسکور کی جنوبی افریقہ نے اٹھارہ برس بعد پاکستان میں پہلی فتح حاصل کی
اب جنوبی افریقہ کے بعد سری لنکا کی ٹیم پاکستان کے دورے پر پہنچ چکی ہے دونوں ٹیموں کے درمیان تین ون ڈے میچوں کی سیریز گیارہ تیرہ اور پندرہ نومبر کو پنڈی اسٹیڈیم میں کھیلی جائے گی اس کے بعد پاکستان سری لنکا اور زمبابوے کے درمیان سہ ملکی ٹی ٹوئنٹی سیریز سترہ نومبر سے شروع ہوگی
جنوبی افریقہ کے خلاف کامیابیوں نے پاکستان کرکٹ ٹیم کا اعتماد بحال کیا ہے لیکن اب بھی دباؤ برقرار ہے خاص طور پر بیٹنگ لائن کی غیر مستقل مزاجی تشویش کا باعث ہے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کپ جو اگلے سال فروری میں منعقد ہوگا اس کے لیے مضبوط تیاری کی ضرورت ہے قومی ٹیم کے غیر ملکی کوچ مائیک ہیسن کی حکمت عملی کے مثبت اثرات نظر آ رہے ہیں تاہم بیٹنگ میں تسلسل اور فیلڈنگ میں بہتری کی گنجائش اب بھی موجود ہے
پاکستان کرکٹ بورڈ کو ٹیم کے مستقبل کے حوالے سے میرٹ پر فیصلے کرنا ہوں گے اور پائیدار بنیادوں پر اقدامات اٹھانے ہوں گے سوال یہ ہے کہ کب تک قومی ٹیم اپنی کامیابیوں کا سہرا صرف بولرز کے سر باندھتی رہے گی بیٹرز کو بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مستقل کارکردگی دکھانی ہوگی تاکہ پاکستان عالمی سطح پر ایک بار پھر اپنی کرکٹ برتری ثابت کر سکے