اردو ورلڈ کینیڈا (ویب نیوز ) رچرڈ فالک بین الاقوامی قانون کے ایک معتبر نام، اقوام متحدہ کے سابق خصوصی نمائندے، اور عمر رسیدہ علمی شخصیت — کو اُن کی 95ویں سالگرہ کے دن حراست میں لے لیا گیا ۔
کینیڈین سرحد پر حراست میں لیا جانا محض ایک انتظامی عمل نہیں بلکہ ایک خطرناک علامت ہے۔ یہ واقعہ اس بڑھتے ہوئے رجحان کی نشاندہی کرتا ہے جس میں فلسطین، غزہ اور اسرائیلی پالیسیوں پر علمی و قانونی گفتگو کو دبانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ کوئی عام مسافر نہیں تھے۔ وہ اوٹاوا میں ہونے والی ایک ایسی کانفرنس میں شرکت کے لیے آ رہے تھے جس کا مقصد کینیڈا کی فلسطینیوں کے خلاف انسانی حقوق کی ممکنہ خلاف ورزیوں میں شمولیت کا تجزیہ کرنا تھا۔ یہ ایک علمی بحث تھی، کوئی سیاسی شورش نہیں۔ لیکن پیئرسن ایئرپورٹ پر ان سے پوچھے گئے سوالات، ان کے نظریات اور کانفرنس کے عنوان کے بارے میں تفصیلی بازپرس اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ شاید اُن کی رائے اور تحقیق ہی انہیں مشکوک بنا گئی۔
اگرچہ کینیڈا بارڈر سروسز ایجنسی نے ہمیشہ کی طرح ’’رازداری‘‘ کا حوالہ دے کر معاملے پر خاموشی اختیار کی، لیکن ایک 95 سالہ معروف پروفیسر کو گھنٹوں تک روکنا، ان کی اہلیہ کو دہشت زدہ کرنا، اور انہیں قومی سلامتی کے زاویے سے پرکھنا یقیناً محض ایک معمول کی کارروائی نہیں ہو سکتی۔ ’’مزید جانچ‘‘ کا یہ پردہ اکثر اُن صورتوں میں ڈالا جاتا ہے جہاں اصل مسئلہ نظریات کا ٹکراؤ ہو، نہ کہ کوئی حقیقی خطرہ۔یہ سوال اہم ہے: اگر فلسطین پر علمی و قانونی گفتگو بھی کچھ ریاستوں کے لیے ناقابلِ برداشت ہو رہی ہے، تو پھر آزادیٔ اظہار، علمی تحقیق اور جمہوری اقدار کہاں کھڑی ہیں؟
کینیڈا، جو دنیا میں لبرل جمہوریت کی علامت سمجھا جاتا ہے، اس واقعے کے بعد کم از کم اس اصول پر ضرور پرکھا جانا چاہیے کہ وہ علم، تحقیق اور اختلافِ رائے کو کس حد تک برداشت کرنے پر آمادہ ہے۔ فلسطینیوں کی حالتِ زار پر گفتگو کو روکنا نہ فلسطین کے لیے انصاف ہے اور نہ کینیڈا کے لیے بھلائی۔ بلکہ یہ ایک ایسے عالمی رجحان کو تقویت دیتا ہے جس میں طاقتور ریاستیں، تنقیدی آوازوں کو "سیکیورٹی” کے پردے میں خاموش کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
فالک جیسے شخص کے ساتھ اس سلوک پر کانفرنس منتظمین، انسانی حقوق کے کارکن اور کینیڈا کے بعض قانون سازوں کی جانب سے ظاہر کی گئی تشویش بجا ہے۔ اگر ایک عالمی شہرت یافتہ قانونی دانشور کو ناپسندیدہ سوالات اٹھانے کی وجہ سے حراست میں لیا جا سکتا ہے تو پھر عام شہریوں، طلبہ اور محققین کے لیے پیغام کیا ہے؟اداریہ کا بنیادی سوال یہی ہے: کیا ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو رہے ہیں جہاں فلسطین پر بات کرنا خود ایک جرم بنتا جا رہا ہے؟اگر ایسا ہے تو یہ صرف فلسطینیوں کے خلاف ناانصافی نہیں بلکہ عالمی سطح پر علم، انصاف اور جمہوری اقدار کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔کینیڈا کو چاہیے کہ اس واقعے کی شفاف تحقیقات کرائے، اس طرح کے اقدامات کا سدباب کرے، اور ثابت کرے کہ وہ اب بھی آزادیٔ اظہار، علمی مباحثے اور انسانی حقوق کا حقیقی داعی ہے — نہ کہ ان آوازوں کو دبانے والا جو عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی کوشش کرتی ہیں۔