پرامن ایران نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کیلئے ناگزیر قرار 

 اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ایران میں بگڑتی ہوئی صورتحال اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایک اہم اور ہنگامہ خیز اجلاس منعقد ہوا

جس میں امریکا، روس، پاکستان اور دیگر رکن ممالک کے مندوبین نے کھل کر اپنے اپنے مؤقف کا اظہار کیا۔ اجلاس کے دوران ایران کے اندرونی حالات، انسانی حقوق کی صورتحال، علاقائی سلامتی اور ممکنہ تصادم کے خدشات پر تفصیلی اور سخت بحث دیکھنے میں آئی۔سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی مندوب نے کہا کہ امریکا ایران کے “بہادر عوام” کے ساتھ کھڑا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران میں سر نہ ڈھانپنے پر ایک خاتون کے قتل کا واقعہ ریاستی تشدد اور جبر کی ایک واضح مثال ہے، جس کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں بلکہ بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے بھی سنگین خطرہ بن رہے ہیں۔

امریکی مندوب نے دعویٰ کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ محض بیانات نہیں بلکہ عملی اقدامات پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ خطے میں عدم استحکام پھیلانے کے لیے حزب اللہ اور حماس جیسی تنظیموں کو مالی اور عسکری مدد فراہم کرتا رہا ہے۔ ان کے مطابق ایرانی حکومت کمزور ہو چکی ہے اور اپنی گرفت برقرار رکھنے کے لیے طاقت اور جبر کا سہارا لے رہی ہے۔امریکی نمائندے نے مزید کہا کہ لاکھوں ایرانی شہری سڑکوں پر نکل کر حکومت کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ بقول ان کے، ایران ایک طرف مذاکرات پر آمادگی ظاہر کرتا ہے، لیکن دوسری جانب اس کا عملی طرزِ عمل مذاکراتی عمل کے بالکل برعکس ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ عالمی برادری بخوبی جانتی ہے کہ آج ایرانی رجیم اپنی تاریخ کی کمزور ترین حالت میں ہے۔

اجلاس کے دوران روسی مندوب نے امریکی مؤقف کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایران کے داخلی معاملات میں مداخلت بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی ہے۔ روسی نمائندے نے خبردار کیا کہ انسانی حقوق کے نام پر دباؤ یا طاقت کے استعمال سے صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے اور خطہ ایک نئے بحران کی طرف جا سکتا ہے۔پاکستانی مندوب نے اجلاس سے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ ایک پرامن، مستحکم اور خودمختار ایران نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی مسئلے کا حل مکالمے، سفارتکاری اور سیاسی عمل میں ہے، نہ کہ پابندیوں، دھمکیوں یا طاقت کے استعمال میں۔ پاکستان نے تمام فریقین سے تحمل، ذمہ داری اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کی اپیل کی۔

سلامتی کونسل کے اجلاس میں کئی دیگر ممالک کے نمائندوں نے بھی اپنی آراء پیش کیں اور اس بات پر اتفاق کیا کہ ایران کی صورتحال ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ مندوبین نے خبردار کیا کہ اگر بروقت سیاسی حل کی جانب پیش رفت نہ کی گئی تو اس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ اور عالمی امن پر مرتب ہو سکتے ہیں۔اجلاس کے اختتام پر سلامتی کونسل کے ارکان نے اس امر پر زور دیا کہ کشیدگی میں کمی، انسانی حقوق کے تحفظ اور علاقائی استحکام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں، تاکہ صورتحال کسی بڑے تصادم کی شکل اختیار نہ کرے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں