ایران پر ممکنہ امریکی حملہ کس کے کہنے پر روکا گیا؟امریکی اخبار کا سنسنی خیز انکشاف 

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز )امریکی اخبار کی جانب سے سامنے آنے والا حالیہ انکشاف کہ ایران پر ممکنہ امریکی حملہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے مشورے پر روکا گیا

عالمی سیاست میں جاری پیچیدہ طاقت کے کھیل کو ایک نئے زاویے سے بے نقاب کرتا ہے۔ بظاہر جو ممالک سخت بیانات، دھمکیوں اور جارحانہ مؤقف کے ذریعے دنیا کو ایک بڑے تصادم کی طرف دھکیلتے دکھائی دیتے ہیں، وہی پس پردہ اس تصادم کے نتائج سے سب سے زیادہ خوفزدہ بھی نظر آتے ہیں۔ نیتن یاہو کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف فوجی کارروائی ملتوی کرنے کا مشورہ اسی تضاد کی واضح مثال ہے۔

اخباری رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نے خدشہ ظاہر کیا کہ ایران پر براہِ راست امریکی حملہ نہ صرف خطے کو ایک وسیع جنگ کی لپیٹ میں لے سکتا ہے بلکہ خود اسرائیل اس کا سب سے پہلا اور سب سے بڑا ہدف بن سکتا ہے۔ ایران کی ممکنہ تباہ کن جوابی کارروائی کا خوف اس بات کا ثبوت ہے کہ خطے میں طاقت کا توازن یکطرفہ نہیں رہا۔ ایران، برسوں کی پابندیوں، دباؤ اور تنہائی کے باوجود، آج بھی ایسی صلاحیت رکھتا ہے جو امریکا اور اس کے اتحادیوں کو کھلے تصادم سے پہلے کئی بار سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے۔

یہ انکشاف اس لیے بھی اہم ہے کہ اسرائیل طویل عرصے سے ایران کو اپنے وجود کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیتا آیا ہے۔ اسرائیلی قیادت کھل کر یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں اس کے اثر و رسوخ کو کسی بھی قیمت پر روکا جانا چاہیے۔ مگر جب عملی جنگ کا امکان سامنے آیا تو خود اسرائیل نے پسپائی اختیار کرتے ہوئے امریکا کو تحمل کا مشورہ دیا۔ اس سے یہ حقیقت مزید واضح ہو جاتی ہے کہ جنگ کے نعرے لگانا آسان، مگر اس کے نتائج بھگتنا نہایت مشکل ہوتا ہے۔

دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ کشیدگی میں اضافے کے اس مرحلے پر سعودی عرب، قطر اور عمان جیسے اہم علاقائی ممالک نے بھی امریکی صدر کو ایران پر حملہ ملتوی کرنے کا مشورہ دیا۔ یہ تینوں ممالک خطے میں مختلف کردار اور مفادات رکھتے ہیں، مگر اس معاملے پر ان کا مؤقف یکساں ہونا اس بات کی علامت ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کسی نئی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ خاص طور پر خلیجی ممالک، جو ماضی میں ایران مخالف امریکی پالیسیوں کے قریب سمجھے جاتے رہے ہیں، اب کھلے تصادم کے بجائے سفارتکاری اور استحکام کو ترجیح دیتے دکھائی دے رہے ہیں۔

سعودی عرب کے لیے ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ کا مطلب نہ صرف تیل کی تنصیبات کو خطرہ بلکہ خطے میں معاشی اور سیاسی عدم استحکام بھی ہو سکتا ہے۔ قطر، جو پہلے ہی علاقائی تنازعات کا سامنا کر چکا ہے، کسی بھی نئی جنگ کے اثرات سے بخوبی آگاہ ہے۔ عمان، جو روایتی طور پر ثالثی کا کردار ادا کرتا آیا ہے، ہمیشہ سے ایران اور مغرب کے درمیان رابطے کا ایک اہم ذریعہ رہا ہے۔ ان ممالک کی مشترکہ رائے اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خطے میں جنگ کے بجائے مذاکرات ہی واحد قابلِ عمل راستہ ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کردار بھی اس تمام معاملے میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ ایک طرف ایران کے خلاف سخت بیانات، پابندیوں اور دباؤ کی پالیسی پر عمل پیرا رہی، تو دوسری طرف کھلی جنگ سے گریز بھی کرتی رہی۔ اس تضاد کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ امریکا بخوبی جانتا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کسی محدود آپریشن تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ اس کے اثرات عراق، شام، لبنان، خلیج اور حتیٰ کہ عالمی معیشت تک پھیل سکتے ہیں۔

ایران کی ممکنہ جوابی کارروائی کا خوف محض اسرائیل یا خلیجی ممالک تک محدود نہیں، بلکہ امریکا کے لیے بھی یہ ایک سنگین تشویش ہے۔ خطے میں امریکی فوجی اڈے، اتحادی ممالک اور سمندری راستے سب ایران کے ممکنہ ردعمل کی زد میں آ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سخت ترین بیانات کے باوجود عملی جنگ سے گریز کیا گیا اور سفارتی چینلز کو مکمل طور پر بند نہیں کیا گیا۔

اس تمام صورتحال سے ایک اہم سبق یہ ملتا ہے کہ عالمی طاقتیں بظاہر جتنی بھی مضبوط کیوں نہ ہوں، جدید دنیا میں کسی ایک ملک کے خلاف جنگ چھیڑنا آسان فیصلہ نہیں رہا۔ علاقائی طاقتوں کا ردعمل، عالمی رائے عامہ، معاشی اثرات اور طویل المدتی عدم استحکام ایسے عوامل ہیں جو بڑے فیصلوں کو روکنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ ایران کا معاملہ اس کی واضح مثال ہے، جہاں عسکری طاقت کے بجائے سفارتی دباؤ اور سیاسی حکمتِ عملی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

پاکستان اور دیگر غیرجانبدار ممالک کے لیے بھی یہ صورتحال کئی اسباق رکھتی ہے۔ خطے میں کسی بھی بڑی جنگ کے اثرات سرحدوں تک محدود نہیں رہتے۔ مہنگائی، توانائی کا بحران، مہاجرین کا دباؤ اور سیکیورٹی خدشات براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔ اسی لیے پاکستان سمیت کئی ممالک مسلسل اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ ایران کے معاملے میں تحمل، مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری ناگزیر ہے۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ایران پر ممکنہ امریکی حملہ روکنے کے پیچھے محض ایک ملک یا ایک رہنما نہیں، بلکہ پورے خطے کی اجتماعی عقل اور جنگ کے تباہ کن نتائج کا خوف کارفرما تھا۔ یہ انکشاف عالمی طاقتوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ تصادم کے بجائے سفارتکاری ہی دیرپا امن کی ضمانت ہے۔ اگر یہی راستہ اختیار نہ کیا گیا تو آئندہ کسی بھی لمحے خطہ ایک ایسی آگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے جسے بجھانا کسی کے بس میں نہیں ہوگا۔

 

 

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں