اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے شہر کیلگری کے کوچ ہِل نامی علاقے میں زیرِ زمین پانی کی مرکزی پائپ لائن پھٹنے کے بعد بننے والا زمین دھنسنے کا گڑھا تقریباً دو ہفتے گزرنے کے باوجود مقامی رہائشیوں کے لیے مشکلات کا باعث بنا ہوا ہے۔ متاثرہ سڑک پر مرمتی کام جاری ہے، تاہم رہائشیوں کا کہنا ہے کہ گڑھے کا حجم مسلسل بڑھ رہا ہے جس کے باعث خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
یہ واقعہ چھبیس مئی کو پیش آیا تھا جب کوچ ہِل روڈ پر زیرِ زمین پانی کی پائپ لائن اچانک پھٹ گئی۔ اس کے نتیجے میں بڑی مقدار میں پانی سڑک پر پھیل گیا اور زمین کو شدید نقصان پہنچا۔ ایک مقامی رہائشی، جو اس وقت موقع پر موجود تھا، نے بتایا کہ پانی اچانک انتہائی تیزی سے باہر نکلا اور چند لمحوں میں پوری جگہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
ابتدائی طور پر معمولی دکھائی دینے والا نقصان وقت گزرنے کے ساتھ ایک بڑے مسئلے کی صورت اختیار کر گیا۔ علاقے میں رہنے والی خاتون کیرن لاسکو کے مطابق گڑھے کا حجم تقریباً دوگنا ہو چکا ہے اور وہ روز بروز مزید وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں خوف ہے کہ اگر زمین مزید دھنس گئی تو گڑھا فٹ پاتھ تک پہنچ سکتا ہے، جس سے علاقے کے مکینوں کی آمدورفت شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
پانی کی فراہمی بحال ہونے سے پہلے مقامی باشندے تقریباً چار دن تک بغیر پانی کے رہے۔ اگرچہ اب پانی کی فراہمی دوبارہ شروع ہو چکی ہے، لیکن لوگوں کی تشویش ختم نہیں ہوئی۔ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ انہیں مسلسل یہ فکر لاحق ہے کہ کہیں مزید زمین نہ بیٹھ جائے اور ان کے گھروں تک رسائی محدود نہ ہو جائے۔
کیرن لاسکو کے مطابق شہری انتظامیہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر زمین میں مزید تبدیلیاں آئیں تو پورے بند گلی نما حصے کو عارضی طور پر بند کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسی خدشے کے پیشِ نظر بعض رہائشی اپنی گاڑیاں گھروں کے باہر رکھنے کے بجائے نسبتاً محفوظ مقامات پر کھڑی کر رہے ہیں تاکہ کسی ہنگامی صورتِ حال میں انہیں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
علاقے کے دیگر مکینوں نے مرمتی عملے کی محنت کو سراہتے ہوئے کہا کہ کارکن مسلسل کام کر رہے ہیں، تاہم وہ اس بات پر مایوسی کا اظہار بھی کرتے ہیں کہ مسئلے کے حل میں توقع سے زیادہ وقت لگ رہا ہے۔ ان کے مطابق صورتحال جتنی طویل ہوتی جا رہی ہے، اتنی ہی بے یقینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
شہری انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مرمتی کام کے دوران متعدد تکنیکی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا، جس کی وجہ سے کام کی رفتار متاثر ہوئی۔ حکام کے مطابق اب اضافی عملہ تعینات کر دیا گیا ہے اور امید ہے کہ بنیادی مرمت رواں ہفتے کے آغاز میں مکمل کر لی جائے گی۔ اس کے بعد گڑھے کو بھرنے اور سڑک کی بحالی کا مرحلہ شروع کیا جائے گا۔
مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ خوش قسمتی سے یہ واقعہ شدید سردیوں کے موسم میں پیش نہیں آیا، کیونکہ اس صورت میں مرمتی کام کہیں زیادہ دشوار اور وقت طلب ہو سکتا تھا۔ تاہم وہ اب بھی جلد از جلد مکمل بحالی کے منتظر ہیں تاکہ معمولاتِ زندگی دوبارہ معمول پر آ سکیں۔