اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) سائنس اور طب ایک بار پھر انسانیت کے لیے نئی امید لے آئے ہیں۔
شریانوں میں جمع چکنائی یا چربی ہمیشہ سے دل کے امراض اور فالج کا سب سے بڑا سبب رہی ہے۔ دنیا بھر میں لاکھوں مریض ہر سال ان رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے مہنگے، طویل اور نازک آپریشن کرواتے ہیں۔ مگر اب یہ کہانی بدلنے والی ہے۔سوئٹزرلینڈ کی معروف یونیورسٹی **ای ٹی ایچ زیورخ** کے سائنس دانوں نے ایسا **مائیکرو روبوٹ** تیار کیا ہے جو انسانی جسم کی باریک ترین شریانوں میں بھی با آسانی سفر کر سکتا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس روبوٹ کا سائز **دو ملی میٹر سے بھی کم** ہے—یعنی بال کی موٹائی جتنا!
روبوٹ کے کام کرنے کا طریقہ
اس مائیکرو روبوٹ کا ڈھانچا خاص قسم کے فولادی نینو ذرّات سے بنایا گیا ہے۔ یہ ذرّات اسے اس قدر مضبوط بناتے ہیں کہ وہ خون کے بہاؤ میں تیر سکے، جبکہ ڈاکٹر باہر بیٹھ کر مقناطیسی آلے کے ذریعے اسے کنٹرول بھی کر سکیں۔روبوٹ کو دوا سے بھر کر سیدھا اس مقام تک پہنچایا جائے گا جہاں چربی یا چکنائی جمع ہو کر رکاوٹ پیدا کر رہی ہوتی ہے۔ دوا وہاں پہنچتے ہی جمے ہوئے مواد کو تحلیل کر دے گی اور خون کا بہاؤ فوراً بحال ہو جائے گا۔
بغیر آپریشن علاج کا نیا دور
ماہرین کے مطابق اس ٹیکنالوجی سے مستقبل میں دل کی شریانوں کی صفائی کے لیے کیے جانے والے پیچیدہ اور پرخطر آپریشنوں کی ضرورت کم ہو جائے گی۔یہ مائیکرو روبوٹ نہ صرف علاج کو تیز اور محفوظ بنائے گا بلکہ مریضوں کو درد، طویل ریکوری اور بھاری اخراجات سے بھی بچائے گا۔
طبی دنیا کے لیے نئی امید
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ ابتدائی پیش رفت ہے مگر آنے والے برسوں میں ایسے مائیکرو روبوٹس دل کے امراض، فالج اور دیگر رگوں سے متعلق بیماریوں کے علاج میں انقلاب برپا کر سکتے ہیں۔اگر تجربات کامیاب رہے تو یہ ایجاد دنیا بھر میں لاکھوں جانیں بچانے کا ذریعہ بنے گی—اور دل کی شریانوں کی بیماری وہ نہیں رہے گی جس سے لوگ آج خوف کھاتے ہیں۔