اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) کینیڈا کے دارالحکومت اوٹاوا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایک سنگین انتظامی اور سیکیورٹی غلطی سامنے آئی ہے
جہاں میکسیکو کے شہر کینکون سے آنے والی ایئر کینیڈا کی پرواز کے 10 مسافر کسٹمز اور امیگریشن کلیئر کیے بغیر ہی ایئرپورٹ سے باہر نکل گئے ۔ایئر کینیڈا کے مطابق، پرواز نمبر 1413 اتوار کی رات تقریباً 8 بجے اوٹاوا پہنچی، جس میں مجموعی طور پر 192 مسافر سوار تھے۔ طیارے سے اترنے کے بعد کچھ مسافروں کو غلطی سے ایک ایسے سوئنگ گیٹ سے گزار دیا گیا جو عام طور پر ملکی اور بین الاقوامی دونوں پروازوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اسی غلط سمت نمائی کے باعث 10 مسافر کسٹمز تک پہنچے بغیر ایئرپورٹ سے باہر چلے گئے۔
ان مسافروں میں شامل ہیتھر بیڈنوچ نے بتایا کہ انہیں ابتدا ہی میں کچھ غیر معمولی محسوس ہوا تھا۔انہوں نے کہا کہ“جب ہم دوہری دروازوں سے نکل رہے تھے تو میرے آگے چلنے والے شخص نے مجھ سے پوچھا، ‘کیا یہ راستہ درست لگتا ہے؟’ پھر ہم ایسکلیٹر سے نیچے آئے۔ میرے پاس کوئی چیک اِن سامان نہیں تھا، میں تھکی ہوئی تھی اور گھر جانے کی جلدی میں باہر نکل گئی۔”بیڈنوچ کے مطابق انہوں نے نہ تو کسٹمز سے گزرنا پڑا، نہ امیگریشن افسر سے ملاقات ہوئی اور نہ ہی کوئی ڈیکلریشن جمع کروائی۔ وہ سیدھا بیگیج کلیم کے قریب پہنچ گئیں اور پھر ایئرپورٹ سے روانہ ہو گئیں۔
ایئر کینیڈا کا کہنا ہے کہ جیسے ہی اس غلطی کا انکشاف ہواکینیڈا بارڈر سروسز ایجنسی (CBSA) کو اطلاع دی گئی اور باقی مسافروں کو فوری طور پر کسٹمز ہال کی طرف موڑ دیا گیا۔ تاہم، اس وقت تک 10 مسافر ایئرپورٹ چھوڑ چکے تھے۔ہیتھر بیڈنوچ نے بتایا کہ واقعے کے پانچ دن گزرنے کے باوجود نہ ایئر کینیڈا اور نہ ہی CBSA نے ابتدا میں ان سے رابطہ کیا، حالانکہ انہوں نے خود فون اور آن لائن دونوں طریقوں سے اداروں سے رابطہ کیا تھا۔
بعد ازاں ہفتے کے روز ایک اپ ڈیٹ میں بیڈنوچ نے بتایا کہ CBSA کے حکام نے آخرکار ان سے رابطہ کیا، ان سے پوچھا کہ آیا ان کے پاس کوئی قابلِ اعلان سامان ہے یا نہیں، اور انہیں یقین دہانی کروائی کہ مستقبل میں ان کے سفر کے دوران انہیں کسی قسم کی مشکل پیش نہیں آئے گی۔کینیڈا بارڈر سروسز ایجنسی کے سابق انٹیلی جنس چیف کرسچن لین نے اس واقعے کو “انتہائی سنگین خلاف ورزی” قرار دیا۔
ان کا کہنا تھاکہ “اس کا مطلب یہ ہے کہ 192 میں سے 10 مسافروں نے نہ تو کسٹمز ایکٹ اور نہ ہی امیگریشن اینڈ ریفیوجی پروٹیکشن ایکٹ کے تحت اپنی رپورٹنگ کی۔ اس وجہ سے ان کا کینیڈا میں داخلہ قانونی طور پر ایک غیر واضح حالت میں ہے۔”لین کے مطابق اس واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ ان مسافروں کی امیگریشن حیثیت کیا تھی اور وہ اپنے سامان میں کیا لے کر آئے تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ایسی غلطیوں کی اصلاح ممکن ہوتی ہے، لیکن اس مرحلے پر یہ کہنا مشکل ہے کہ اس واقعے کا ان 10 افراد پر انفرادی طور پر کیا اثر پڑے گا۔
کرسچن لین کے مطابق اس واقعے کے نتیجے میں ایئر کینیڈا کو بھی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، کیونکہ قانون کے تحت ایئرلائنز کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام بین الاقوامی مسافروں کو لازمی طور پر CBSA افسران کے سامنے پیش کریں۔ہفتے کے روز جاری کردہ ایک بیان میں CBSA نے تصدیق کی کہ واقعی 10 مسافر کسٹمز کلیئر کیے بغیر ایئرپورٹ سے باہر نکل گئے تھے ۔ ایجنسی کے مطابق اسے ایئر کینیڈا سے ان مسافروں کے نام موصول ہو چکے ہیں اور ہر مسافر سے علیحدہ علیحدہ رابطہ کیا جا رہا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ“امیگریشن اینڈ ریفیوجی پروٹیکشن ایکٹ کی شق 148(1)(b) اور کسٹمز ایکٹ کی شق 11(3) کے تحت ایئرلائنز پر لازم ہے کہ وہ کینیڈا پہنچنے والے تمام مسافروں کو جانچ پڑتال کے لیے CBSA کے سامنے پیش کریں۔ اس میں ناکامی ایک سنگین خلاف ورزی ہے جس پر بھاری جرمانے عائد ہو سکتے ہیں۔”