اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) برطانیہ کی ملکہ کمیلا نے اپنی زندگی کے ایک نہایت تکلیف دہ اور حساس واقعے کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے
کہ وہ کم عمری میں ایک اجنبی شخص کی جانب سے ہراسانی کا شکار ہو چکی ہیں۔ یہ انکشاف انہوں نے حال ہی میں بی بی سی ریڈیو کو دیے گئے ایک انٹرویو کے دوران کیا، جس نے نہ صرف برطانیہ بلکہ دنیا بھر میں خواتین کے تحفظ سے متعلق بحث کو ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے۔ملکہ کمیلا نے بتایا کہ یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب وہ محض 16 یا 17 سال کی تھیں اور اکیلے ٹرین میں سفر کر رہی تھیں۔ وہ پرسکون انداز میں اپنی نشست پر بیٹھی کتاب پڑھ رہی تھیں کہ اچانک ایک اجنبی شخص نے ان کے ساتھ بدتمیزی شروع کر دی۔ ان کے مطابق یہ لمحہ نہایت خوفناک اور صدمہ خیز تھا کیونکہ وہ اس وقت بہت کم عمر تھیں اور ایسی کسی صورتحال کے لیے ذہنی طور پر تیار نہیں تھیں۔
ملکہ کمیلا نے انکشاف کیا کہ اس لمحے انہیں اپنی والدہ کی دی ہوئی نصیحت یاد آئی، جس میں انہیں ہمیشہ ہمت اور حاضر دماغی سے کام لینے کا مشورہ دیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ خوف کے باوجود انہوں نے خود پر قابو پایا، فوراً اپنا جوتا اتارا اور حملہ آور شخص کو دے مارا، جس کے بعد وہ اپنی جان بچاتے ہوئے ٹرین سے اتر گئیں۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ وہ محفوظ رہیں، مگر اس واقعے کے اثرات طویل عرصے تک ان کے ذہن پر چھائے رہے۔ یہ واقعہ ان کے لیے ایک ایسا صدمہ تھا جس نے انہیں کئی برس تک ذہنی دباؤ میں رکھا۔ ملکہ کمیلا کے مطابق جب بھی گھریلو تشدد یا خواتین کے خلاف جرائم پر بات ہوتی ہے تو وہ لمحہ ان کے ذہن میں تازہ ہو جاتا ہے، جو انہیں آج بھی بے چین کر دیتا ہے۔
ملکہ کمیلا نے اس انٹرویو کے ذریعے نہ صرف اپنی ذاتی کہانی شیئر کی بلکہ معاشرے کو یہ پیغام بھی دیا کہ ہراسانی کسی بھی طبقے، عمر یا حیثیت کے فرد کے ساتھ ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین کو چاہیے کہ وہ ایسے واقعات پر خاموش نہ رہیں اور ہمت کے ساتھ آواز بلند کریں۔
ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں خواتین کے تحفظ، عوامی مقامات پر ہراسانی اور گھریلو تشدد جیسے مسائل پر کھل کر گفتگو کی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق ملکہ جیسی بااثر شخصیت کا اس موضوع پر بات کرنا متاثرہ خواتین کو حوصلہ دے سکتا ہے اور معاشرے میں شعور اجاگر کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ملکہ کمیلا کا یہ اعتراف اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ہراسانی ایک سنگین مسئلہ ہے جس کا خاتمہ صرف قانون سازی سے نہیں بلکہ سماجی شعور، تربیت اور حوصلہ مندی سے ہی ممکن ہے۔