دنیا کا ایسا گاؤں جہاں لوگ مرتے نہیں بلکہ غائب ہو جاتے ہیں

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) دنیا کے نقشے پر کچھ مقامات ایسے ہوتے ہیں جو محض جغرافیہ نہیں بلکہ انسانی سوچ، قانون اور فطرت کے باہمی ٹکراؤ کی علامت بن جاتے ہیں۔

ناروے کے انتہائی شمال میں واقع ایک چھوٹا سا قصبہ لانگیئر بین (Longyearbyen) بھی ایسا ہی ایک مقام ہے، جہاں زندگی تو پوری شدت سے موجود ہے مگر موت کے داخلے پر پابندی ہے۔ یہ دنیا کا واحد شہر ہے جہاں قانونی، طبی اور سماجی طور پر مرنے کی اجازت نہیں دی جاتی، اور یہ بات کسی کہانی یا افسانے کا حصہ نہیں بلکہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے جس پر ریاستی قوانین نافذ ہیں۔
لانگیئر بین جزیرہ نما سوالبارڈ (Svalbard) پر واقع ہے، جو قطبِ شمالی کے نہایت قریب ہے۔ یہاں سال کا بیشتر حصہ برف، اندھیرا اور شدید سردی چھائی رہتی ہے۔ بعض اوقات درجہ حرارت منفی 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر جاتا ہے، جس کے باعث زمین مستقل طور پر منجمد رہتی ہے۔ اس مستقل جمی ہوئی زمین کو سائنسی زبان میں پرما فراسٹ (Permafrost) کہا جاتا ہے۔ یہی پرما فراسٹ اس انوکھے قانون کی بنیادی وجہ ہے، جس نے اس شہر کو دنیا بھر میں منفرد بنا دیا ہے۔
عام حالات میں جب کسی انسان کو دفن کیا جاتا ہے تو وقت کے ساتھ اس کی لاش مٹی میں تحلیل ہو جاتی ہے، مگر لانگیئر بین میں ایسا ممکن نہیں۔ یہاں دفن کی جانے والی لاشیں گلتی سڑتی نہیں بلکہ دہائیوں بلکہ صدیوں تک تقریباً محفوظ حالت میں رہتی ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ 20ویں صدی کے آغاز میں ایک خوفناک انکشاف سامنے آیا۔ 1918 میں دنیا بھر میں پھیلنے والی اسپینش فلو وبا کے دوران لانگیئر بین میں بھی کئی اموات ہوئیں۔ ان لاشوں کو جب دفن کیا گیا تو شدید سردی کے باعث وائرس ان جسموں میں زندہ حالت میں محفوظ رہا۔ کئی دہائیوں بعد جب سائنسدانوں نے ان قبروں کا مطالعہ کیا تو انہیں وائرس کے آثار فعال حالت میں ملے، جس نے ایک نئی عالمی وبا کے خدشے کو جنم دیا۔
اسی سائنسی خطرے کے پیشِ نظر ناروے کی حکومت اور مقامی انتظامیہ نے ایک غیر معمولی مگر ضروری فیصلہ کیا۔ 1950 کی دہائی میں لانگیئر بین میں **نئے تدفین پر مکمل پابندی** عائد کر دی گئی اور اعلان کیا گیا کہ اب اس شہر میں مرنا قانونی طور پر ممنوع ہوگا۔ اگرچہ یہ قانون لفظی طور پر "مرنے” کو جرم قرار نہیں دیتا، مگر عملی طور پر یہاں کسی کو مرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ شدید بیمار، ضعیف العمر یا آخری مراحل میں موجود افراد کو فوری طور پر ناروے کے مرکزی علاقوں میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔
لانگیئر بین میں ایک جدید اسپتال ضرور موجود ہے، مگر اس کا مقصد زندگی بچانا ہے، موت کا انتظام کرنا نہیں۔ یہاں نہ کوئی نیا قبرستان بنایا جا سکتا ہے اور نہ ہی پرانے قبرستان کو استعمال میں لایا جاتا ہے۔ شہر کا پرانا قبرستان کئی دہائیاں قبل بند کر دیا گیا تھا اور اسے ایک تاریخی یادگار کے طور پر محفوظ رکھا گیا ہے، جہاں دفن لاشیں آج بھی برف کے نیچے موجود ہیں۔
یہاں کی زندگی بظاہر عام لگتی ہے۔ لوگ کام پر جاتے ہیں، بچے اسکول جاتے ہیں، کیفے اور ریستوران آباد ہیں، سیاحوں کی آمدورفت رہتی ہے، مگر ہر شخص جانتا ہے کہ اگر اس کی صحت نے جواب دیا تو اسے شہر چھوڑنا ہوگا۔ حاملہ خواتین کو بھی ہدایت دی جاتی ہے کہ زچگی سے کچھ ہفتے قبل شہر سے باہر منتقل ہو جائیں، کیونکہ یہاں پیدائش کے دوران پیچیدگی کی صورت میں محدود سہولیات ایک بڑا خطرہ بن سکتی ہیں۔
لانگیئر بین کے باسی اس حقیقت کے ساتھ جینا سیکھ چکے ہیں۔ یہاں وصیت لکھتے وقت لوگ اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ ان کی موت کہاں واقع ہونی چاہیے۔ بعض افراد تو مذاق میں کہتے ہیں کہ "ہم یہاں زندگی گزارنے آتے ہیں، مرنے نہیں”۔ اس شہر میں موت ایک ایسا مہمان ہے جسے دروازے پر ہی روک دیا جاتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں خودکشی کی شرح بھی انتہائی کم ہے، جس کی ایک وجہ سماجی نگرانی اور ایک دوسرے سے گہرا تعلق بتایا جاتا ہے۔ چھوٹے شہر میں ہر شخص دوسرے کو جانتا ہے، اور تنہائی کو فوری طور پر محسوس کر لیا جاتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اس سرد اور خاموش خطے میں انسانی رشتے غیر معمولی طور پر گرم ہیں۔
لانگیئر بین کی یہ کہانی ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ انسان چاہے جتنی بھی ترقی کر لے، فطرت کے کچھ قوانین ایسے ہیں جنہیں بدلا نہیں جا سکتا، صرف ان کے مطابق جیا جا سکتا ہے۔ یہاں قانون انسان کی سہولت کے لیے نہیں بلکہ فطرت کے تقاضوں کے آگے ہتھیار ڈالنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ یہ شہر ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ بعض اوقات بقا کے لیے سخت ترین فیصلے کرنے پڑتے ہیں، چاہے وہ کتنے ہی عجیب کیوں نہ لگیں۔
دنیا کے دیگر شہروں میں جہاں قبرستان زندگی کے خاموش گواہ ہوتے ہیں، لانگیئر بین میں قبرستان ماضی کی ایک منجمد تصویر ہے۔ یہاں زندگی کو ترجیح دی جاتی ہے اور موت کو شہر کی حدود سے باہر رکھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ قصبہ محض ایک جغرافیائی مقام نہیں بلکہ انسانی تاریخ کی سب سے عجیب، مگر حقیقی، کہانیوں میں شمار ہوتا ہے۔

 

 

 

 

 

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں