اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پولینڈ نے اپنا جدید پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام مشرقِ وسطیٰ بھیجنے سے انکار کر دیا ہے ۔
جس سے خطے میں جاری کشیدگی اور عالمی دفاعی حکمتِ عملی پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔پولینڈ کے وزیرِ دفاع نے اس حوالے سے واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ پیٹریاٹ بیٹریاں اور ان سے متعلق اسلحہ اس وقت ملکی فضائی حدود کے تحفظ کے لیے نہایت اہم ہیں۔ ان کے مطابق یہ نظام نہ صرف پولینڈ بلکہ نیٹو کے مشرقی محاذ کے دفاع میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے، اس لیے انہیں کسی اور خطے میں منتقل کرنا موجودہ سیکیورٹی صورتحال میں ممکن نہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بعض اطلاعات میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکا مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی میں پیٹریاٹ سسٹمز کو استعمال کرنے پر غور کر رہا ہے۔ تاہم پولینڈ کے انکار کے بعد اس حکمتِ عملی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
دفاعی ماہرین کے مطابق پیٹریاٹ نظام دنیا کے جدید ترین فضائی دفاعی سسٹمز میں شمار ہوتا ہے، جو بیلسٹک میزائلوں، کروز میزائلوں اور جدید جنگی طیاروں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے حساس دفاعی نظام کی منتقلی ہمیشہ اسٹریٹیجک اور سیاسی عوامل سے جڑی ہوتی ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پولینڈ کا یہ فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یورپ میں سیکیورٹی خدشات اب بھی برقرار ہیں، خصوصاً مشرقی یورپ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں۔ اس اقدام سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ نیٹو ممالک اپنی علاقائی دفاعی ضروریات کو ترجیح دے رہے ہیں، چاہے عالمی سطح پر کسی اور بحران میں ان سے تعاون کی توقع ہی کیوں نہ کی جا رہی ہو۔مجموعی طور پر، پولینڈ کے اس فیصلے نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال بلکہ عالمی دفاعی تعاون اور اتحادوں کی ترجیحات پر بھی اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔